انوارالعلوم (جلد 6) — Page 195
انوار العلوم جلد 4 ۱۹۵ آئینه صداقت کا ایک پیغام حضرت خلیفتہ اسی کے پاس آیا تھا کہ وہ قادیان سے جانے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ کیونکہ ان کی بہت ہنگ ہوئی ہے جس سے اس روایت کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کے دیکھنے والے سینکڑوں لوگ واقعات بیان کردہ کے شاہد نده موادو ناہید زندہ موجود ہیں اور وہ لوگ جو اس وقت اس مجلس میں موجود تھے ۔ ان میں کچھ تو ایسے لوگ ہیں ، جو اس وقت ان کے ساتھ ہیں اور کچھ ایسے جو میری بیعت میں ہیں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر غلیظ قسموں سے دریافت کیا جاوے۔ تو دونوں فریق کے آدمی ان واقعات کی صداقت کی شہادت دیں گے کیونکہ اتنی بڑی مجلس میں ہونے والا ایسا مہتم بالشان واقعہ چھپایا نہیں جاسکتا۔ خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی ایمانی حالت پیشتر اس کے کہ میں واقع اس کہ سلسلہ کو آگے چلاوں میں کے سلسلہ کو آگے چلنا ان لوگوں کی ایمانی حالت کا ایک نقشہ پیش کرتا ہوں جس سے ہر ایک شخص سمجھ لے گا کہ یہ لوگ کہاں سے ہر ایمانداری سے کام لے رہے ہیں۔ پچھلی دفعہ جب خواجہ کمال الدین صاحب ولایت سے آئے ۔ لے رہے ہیں بھی دی جب خواجہ کمال الدین ولایت - تک ایمان تو جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ۔ انہوں نے اختلافات سلسلہ کے متعلق ایک لیکچر دیا تھا اس میں وہ اس واقعہ بیعت کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ کہ گویا حضرت خلیفہ اول نے ان کی روحانی صفائی کو دیکھ کر خاص طور پر ان سے بیعت لی تھی ۔ مندرجہ بالا واقعات کو پڑھ کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص ان حالات کے مطابق کی جانے والی بیعت کو بیعت ارشاد اور ایک انعام اور عزت افزائی اور علامت تقرب قرار دیتا ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں خاک ڈالنی چاہتا ہے ۔ کیا اس کی کسی بات کا بھی اعتبار ہو سکتا ہے خواجہ صاحب کے اصل الفاظ اس بارے میں یہ ہیں :- " کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مراد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل ہیں ، مجھ سے بیعت دوبارہ لی۔ یہ بالکل سچ ہے بیعت کسی امر کی ؟ بیعت ارشاد ! کیا تم ایمان سے کہ سکتے ہو کہ انہوں نے مجھ سے تجدید بیعت کرائی۔ وہ بیعت ارشاد تھی نہ بیعت تو بہ کی تجدید ۔ اس کے بعد ایک اور سعیت رہ جاتی ہے وہ ہے بیعت دم - اب جاؤ صوفیائے کرام کے حالات پڑھو اور دیکھو کہ بیعت ارشاد وہ کسی مرید سے لیتے ہیں۔ وہ سلسلہ میں داخل کرنے کے وقت مرید سے بیعت تو بہ لیتے ہیں اور جب اس میں اطاعت کی استعداد دیکھتے ہیں تو اس سے بیعت ارشا د لیتے ہیں ۔ اور پھر جب اس پر اعتماد کلی ہوتا