انوارالعلوم (جلد 6) — Page 191
انوار العلوم جلد 4 191 آئینہ صداقت میں نماز کے انتظار میں گھر ٹہل رہا تھا۔ ہمارا گھر بالکل مسجد کے متصل ہے ۔ اس وقت میرے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ غضب خدا کا ایک بچہ کو خلیفہ بنا کر چند شریر لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں میں چونکہ بالکل خالی الذہن تھا مجھے بالکل خیال نہ گزرا کہ اس بچہ سے مراد میں ہوں۔ لیکن میں حیرت سے ان کے اس فقرہ پر سوچتا رہا ۔ گو کچھ بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔ واقعات نے ثابت کر دیا کہ ان کا خوف بے جا تھا۔ کسی نے تو کسی کو خلیفہ کیا بنانا ہے ۔ خدا بیشک ارادہ کر چکا تھا کہ اس بچہ کو جسے انہوں نے حقیر خیال کیا خلیفہ بنا دے۔ اور اس کے ذریعہ سے دنیا کے چاروں گوشوں میں مسیح موعود کی تبلیغ پہنچا دے اور ثابت کر دے کہ وہ قادر خدا ہے جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور ان لوگوں کی فطرتیں پہلے ہی سے اس امر کو محسوس کر رہی تھیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں مقدر تھا۔ غرض حضرت خلیفہ المسیح کی آمد تک مسجد میں خوب خوب باتیں ہوتی رہیں اور لوگوں کو اونچ نیچ سمجھائی گئی ۔ آخر حضرت خلیفۃ المسیح تشریف لائے اور نماز شروع ہوئی۔ نماز میں آپ نے سورہ بروج کی تلاوت فرمائی ۔ اور جس وقت اس آیت پر پہنچے کہ إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ ( البروج : 1 ) یعنی وہ لوگ جو مومن مرد اور مومن عورتوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں۔ اور پھر اس کام سے تو یہ نہیں کرتے۔ ان کے لئے اس فعل کے نتیجہ میں عذاب جہنم ہوگا اور جلا دینے والے عذاب میں وہ مبتلاء ہوں گے۔ اس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہو گیا ۔ یوں معلوم ہوتا تھا۔ گویا یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے اور ہر ایک شخص کا دل خشیتہ اللہ سے بھر گیا ۔ اور اس وقت مسجد یوں معلوم ہوتی تھی جیسے ماتم کدہ ہے ۔ با وجود سخت ضبط کے بعض لوگوں کی چیخیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس طرح کرب کا اظہار نہ کیا ہوگا ۔ اور رونے سے تو کوئی شخص بھی خالی نہیں تھا۔ خود حضرت خلیفہ المسیح کی آواز بھی شدت گریہ سے رک گئی اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دہرایا اور تمام جماعت نیم سبل ہوگئی اور شاید ان لوگوں کے سوا جن کے لئے ازل سے شقاوت کا فیصلہ ہو گیا تھا ۔ سب کے دل دہل گئے ۔ اور ایمان دلوں میں گڑ گیا اور نسانیت بالکل نکل گئی۔ وہ ایک آسمانی نشان تھا۔ جو ہم نے دیکھا اور تائید غیبی تھی جو مشاہدہ کی نماز ختم ہونے پر حضرت خلیفہ المسیح گھر کو تشریف لے گئے اور ان لوگوں نے پھر لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کے بعد جانشین ہے ۔ لوگوں کے دل چونکہ خشیتہ اللہ سے معمور ہو رہے تھے اور وہ اس تحریر کی حقیقت ت سے ناواقف تھے ۔ وہ اس امر کو دیکھ کر کہ حضرت