انوارالعلوم (جلد 6) — Page 189
الوار العلوم جلد 4 ١٨٩ آئینه صداقت گر ہر ایک شخص کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ آنے والے دن کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔ بیرو نجات ہے تھا کو رہا۔ آنے والے لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو یہ ام سمجھانے کی پوری طرح کوشش کی گئی ہے کہ اصل جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور خلیفہ صرف بیعت لینے کے لئے ہے اور تمام راستہ بھر خاص طور پر یہ بات ہر ایک شخص کے ذہن نشین کی گئی ہے کہ جماعت اس وقت سخت خطرہ میں ہے۔ چند شریراپنی ذاتی اغراض کو مد نظر رکھ کر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں اور جماعت کے اموال پر تصرف کر کے من مانی کارروائیاں کرنی چاہتے ہیں۔ لاہور میں جماعت احمدیہ کا ایک خاص جلسہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر کیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔ اصل جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑ جاوے گی اور سلسلہ تباہ اہ ہے ہو جاوے گا اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسب فرمان حضرت مسیح موعود جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے۔ صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکر ٹری انجن احمدیہ لاہور اور بابو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفتر لاہور نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔ اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بعیت کر چکے ہیں وہ ہم سے زیادہ عالم اورزیادہ شیعہ اللہ رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے۔ جو کچھ وہ کہے گا ۔ ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔ غرض محضر نامہ تیار ہوئے لوگوں کو سمجھایا گیا اور خوب تیاری کر کے خواجہ صاحب قادیان پہنچے۔ چونکہ دین کا معاملہ تھا اور لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس وقت اگر تم لوگوں کا قدم پھیلا تو لیس ہمیشہ کے لئے جماعت تباہ ہوئی۔ لوگوں میں سخت جوش تھا۔ اور بہت سے لوگ اس کام کے لئے اپنی جان دینے کے لئے بھی تیار تھے اور بعض لوگ صاف کہتے تھے کہ اگر مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) نے خلاف فیصلہ کیا تو ان کو اسی وقت خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے گا بعض خاموشی سے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے منتظر تھے بعض بالمقابل خلافت کی تائید میں جوش دکھا رہے تھے اور خلافت کے قیام کے لئے ہر ایک قربانی پر آمادہ تھے عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ باہر سے آنے والے خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تلقین کے باعث قریباً سب کے سب اور قادیان کے رہنے والوں میں سے ایک حصہ اس امر کی طرف جھک رہا تھا کہ نہین اور ہی جانشین ہے۔ گو قادیان کے لوگوں کی کثرت خلافت سے وابستگی ظاہر کرتی تھی۔ نہایت خطرناک حالت ایسے وہ برادران جو بد می سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے ہوں اور جنہوں نے وہ درد اور تکلیف نہیں دیکھی جو اس سلسلہ کے قیام کے لئے مسیح موعود نے برداشت کی اور ان حالات کا مطالعہ نہیں کیا جن میں سے گزر کر سلسلہ اس حد