انوارالعلوم (جلد 6) — Page 172
انوار العلوم جلد 4 ۱۷۲ آئینه صداقت پھر لکھا ہے :۔ اور اسمہ احمد کا مصداق مسیح موعود ہے " القول الفصل صدرا مطبوعہ قادیان جنوری شاهداء ) غرض اس کتاب میں چھ صفحات پر حضرت مسیح موعود کے حوالوں اور حضرت خلیفہ اول کی شہادت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسم احمد والی پیشگوئی کا مصداق ثابت کیا گیا ہے مسئلہ تکفیر غیر احمدیوں ۔ می موعود علی اسلام و اسم احمد کے متعلق صفحہ ۳۳ میں میں نے لکھا ہے ۔ دوسرا مسئلہ کفر ہے جس پر خواجہ صاحب نے بحث کی ہے۔ اس مسئلہ پر میں خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریریں شائع کر چکا ہوں۔ مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ میرا وہی عقیدہ ہے ۔ -1911 اس کے نیچے حاشیہ میں بتایا ہے کہ مفصل دیکھو رسالہ تمیز الاذہان اپریل سفانہ ۔ یہ وہ رسالہ ہے جس میں میرا چالیس صفحہ کا مضمون تکفیر غیر احمدیان کے متعلق شائع ہوا تھا۔ اور جس میں سے بعض فقرات میں پہلے نقل کر چکا ہوں ۔ پھر لکھا ہے :۔ "پس جو حکم نبی کے انکار کے متعلق قرآن کریم میں ہے ۔ وہی مرزا صاحب کے منکر کی نسبت ہے ؟ القول الفصل ۳ مطبوعہ قادیان جنوری شانه ) ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ القول الفصل میں کھول کھول کر یہ امر بیان کر دیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں ۔ آپ کے منکر کافر ہیں اور یہ کہ آپ آیت اسمہ احمد کے مصداق ہیں۔ یہ کتاب جنوری 191ء میں شائع ہوئی ہے اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے پاس بھیجی گئی۔ اس کے متعلق مولوی سید محمد احسن صاحب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کو تحریر کرتے ہیں :- " القول الفصل اول سے اخیر تک خاکسار نے سنا اس کی نسبت میں عرض کر چکا ہوں کہ اس میں سب طرح سے اتمام حجت منکرین خلافت پر کیا گیا ہے " پھر ان کے بیٹے سید محمد یعقوب صاحب کا لکھا ہوا ایک خطہ ان کی طرف سے مجھے بھیجا گیا تھا ۔ اس میں وہ لکھتے ہیں :۔ رساله إنَّهُ لَقَولُ فَصْلٌ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ کو خاکسار نے جناب والد صاحب کو سنایا ۔ دعاوی صادقہ اور مصد وقہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ عوارض لاحقہ متعلقہ پیری و دیگر امراض کو فراموش کر دیا اور کہنے لگے کہ الحمد للہ یں نے وہ وقت پا لیا کہ جس کا میں سالہا سے منتظر تھا ۔۔۔۔۔۔ یہاں پر آل فرعون لاہوریوں کی نسبت جناب والد صاحب کی طرف سے لکھتا ہوں ۔ خارجاً معلوم ہوا کہ اس رسالہ الفصل کو ایک شیطان نے یہ کہا کہ مصنف رسالہ شریر ہے ، کذاب ہے، چالباز ہے ، میں سارے پر دے اس ★ یہ فتوی مولوی صاحب کا خواجہ کمال الدین صاحب کی نسبت ہے ۔