انوارالعلوم (جلد 6) — Page 169
انوار العلوم جلد 4 149 آئینه صداقت اس مبحث پر شائع ہوا ہے وہی ہے جو حضرت خلیفہ اول کے وقت میں شائع ہوا ہے ۔ پس اگر یہی مسئلہ میری خلافت کے منسوخ ہونے کے لئے دلیل ہے تو سید صاحب پر الزام آتا ہے کہ اس عقیدہ کے رکھتے ہوئے انہوں نے میری خلافت کی تائید کیوں کی ؟ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس مجلس سے پہلے جس میں خلافت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا۔ مولوی محمد علی صاحب مجھ سے ملنے آئے تھے اور اس وقت مولوی سید محمد احسن صاحب ، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور نواب محمد علی خان صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ بھی موجود تھے مولوی محمد علی صاحب نے اس وقت سوال ہی یہ اُٹھایا تھا کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت اس لئے مشکل ہو گیا ہے کہ عقائد کا آپس میں اختلاف ہے ۔ ایک جماعت مرزا صاحب کو نبی اور ان کے منکروں کو کا فرکھتی ہے اور دوسری اس امر کی منکر ہے۔ اور اس پر مولوی سید محمد احسن صاحب ہی تھے جو ان سے ان عقائد کی سچائی پر بحث کرنے لگے تھے مگر میں نے ان کو روکا تھا کہ اس وقت عقائد کا فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔ اس وقت تو ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ اس عقدہ کو حل کیونکر کیا جاوے۔ عقائد کے تصفیہ کے لئے تو ایک طویل عرصہ چاہئے ۔ میں اس امر کی صداقت کے لئے حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ کیا مولوی محمد علی صاحب بھی اس امر پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں کہ انہوں نے ان دونوں مسئلوں کا ذکر اس مجلس میں نہیں کیا تھا اور سید محمد احسن صاحب ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے ان عقائد کی صحت پر ان سے گفتگو شروع کر دی تھی۔ نبوت مسیح موعود کے متعلق میری ایک تقریر باقی رہا مسئلہ نبوت اس کے متعلق بھی جیسا کہیں پہلے لکھ آیا ہوں ناو لالہ کے جلسہ کے موقع پر اور مولوی سید محمد حسن صاحب کی تائید میں نے ایک تقریر کی تھیاور صاف طور پر کہا تھا کہ مرزا صاحب نبی ہیں۔ اس تقریر کے بہت سے فقرے میں پہلے نقل کر آیا ہوں ۔ اس جگہ صرف ایک فقرہ پر اکتفا کرتا ہوں " ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرام کے لئے مقرر ہو چکے ہیں ۔ اس فقرہ میں نہ صرف حضرت میں موعود کو نبی کہا گیا ہے بلکہ آپ کا درجہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کے متبع صحابہ کا رنگ رکھتے ہیں ۔ اس تقریر کے وقت مولوی سید محمد احسن صاحب موجود تھے اور لیکچر کے ختم ہوتے ہی بلند آواز سے یہ آیہ کریمہ پڑھنے لگے کہ لا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لائِهِ ر المائدة : ۵۵) بلکہ دوسرے دن آپ نے مسجد اقصیٰ میں ایک تقریر کی تو اس میں بھی میری اس تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ " ایک یہ بھی الہام تھا کہ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ (تذکره صفحه ۱۲۹۴ ایڈیشن چهارم) مظهر الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ او تذکره صفحه ۱۳۹ ایڈیشن چهارم) جو اس حدیث کی پیشگوئی کے مطابق تھا جو مسیح موعود کے بارے میں ہے کہ يَتَزَوَّجُ وَيُولد له الشکواة کتب الفن باب نزول عیلی ) یعنی آپ کے ہاں كتاب بدر ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ ء جلد ۱۰ نمبر ۱۲ صفحہ ۷ ہاں ولد