انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 167

انوار العلوم جلد 4 144 آئینه صداقت شروع کے بیعت کرنے والے ہیں اور حضرت صاحب سے خاص تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں اور جماعت کپور تھلہ میں شامل ہیں ۔ اسی طرح منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی اور منشی فیاض الدین صاحب کپور تھلوی ہیں۔ یہ سب لوگ نہایت مخلص اور مولوی محمد احسن صاحب سے بہت پہلے کے بیعت کرنے والے ہیں ۔ اسی طرح پیر سراج الحق صاحب نعمانی ہیں جو نہ صرف یہ کہ شروع کی بیعت کرنے والے ہیں بلکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود کی لمبی صحبت بھی حاصل کی ہے ۔ بلکہ جن لوگوں کے اس وقت میں نے نام لکھتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں کہ جنہوں نے مولوی سید محمد حسن صاحب کی نسبت حضرت مسیح موعود کی لمبی صحبت پائی ہے۔ یہیں یہ کہنا کہ سید صاحب حضرت مسیح موعود کے سب سے پرانے صحابی ہیں درست نہیں۔ سب سے پہلی کتاب جس میں حضرت مسیح موعود نے اپنی بیعت کرنے والے لوگوں کے نام درج فرمائے ہیں ازالہ اوہام ہے اور جو نام اس میں درج ہیں اور جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کچھ رائے بھی تحریر فرمائی ہے ۔ ان میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہیں ۔ ان میں سے چودہ آدمی میری بیعت میں شامل ہیں ۔ اور کل چار آدمی مولوی صاحب کے ہم خیال ہیں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ پرانے صحابی میرے ہم خیال ہیں یا مولوی صاحب کے ؟ سید سرور شاہ صاحب اور قاضی امیرحسین صاحب میں اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب بھی مولوی سید محمد حسن صاحب سے کم نہیں! جماعت کے سب سے بڑے عالم آدم ہیں ہے علم کا اس رنگ میں فیصلہ کرنا شخص کے لئے آسان نہیں۔ میرے نزدیک مولوی سید سرور شاہ صاحب اور قاضی سید امیرحسین صاحب کسی صورت میں مولوی سید محمد حسن صاحب سے کم نہیں ہیں۔ بلکہ حافظ روشن علی صاحب بھی جو گو نوجوان ہیں۔ مگر علم کے لحاظ سے پیروں میں شامل ہیں۔ غرض نہ قدامت کے لحاظ سے اور نہ علم کے لحاظ سے ان کو دوسروں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل ہے کہ ان کے قول کو حجت قرار دیا جاند ہاں بوجہ اس کے کہ وہ عالم آدمی تھے اور کبیر السن تھے ہماری جماعت کے علماء بھی اور دیگر لوگ ان کا احترام اور عزت واجبی طور پر کرتے تھے اور میں تو اب بھی ان کی پہلی عزت کی وجہ سے ان کا ادب ہی کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ سید صاحب کو دھوکا لگا ہوا ہے ۔ جب اللہ چاہے گا اور یہ حالت بدل جاوے گی وہ پھر مرکز کی طرف رجوع کریں گے ۔ اللہ تعالی ایسا ہی کرے ۔ یہ ایک عارضی ابتلاء ہے جس میں سے ہیں امید کرتا ہوں کہ وہ کامیاب ہو کر نکلیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا را نخل : ۹۳) کا مصداق نہیں بنائے گا - اللهم امين