انوارالعلوم (جلد 6) — Page 161
انوار العلوم جلد 4 141 آئینہ صداقت تھے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی حلفیہ شہادتیں جو اس وقت موجود تھے لیکر شائع کر دی گئی تھیں۔ پس مولوی صاحب بھول کا عذر نہیں کر سکتے ۔ واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ وہ جان بوجھ کر یہ تحریف کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس وقت موجود تھے ان میں سے بعض کی حلفیہ شہادتیں شائع ہو چکی ہیں۔ اور میں بھی اس واقعہ پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہوں ۔ کیا مولوی صاحب اور ان کے ہم خیال جو اس وقت موجود تھے وہ بھی اپنے بیان پر قسم اٹھا سکتے ہیں ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے ۔ بلکہ قسم قسم کے عذرات سے اپنے سر سے یہ بار اُتارنے کی کوشش کریں گے ۔ تاریخ اختلاف سلسلہ کا آٹھواں امر آٹھویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ ٹریکیٹ میں نے لکھا اور حضرت خلیفہ المسیح کو سنایا اور آپ نے اسے پسند فرمایا ۔ لیکن یہ ٹریکیٹ آپ کی زندگی میں شائع نہیں کیا جا سکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولوی صاحب نے ایک ٹرنکیٹ مسئلہ کفر و اسلام پر لکھ کر حضرت خلیفہ المسیح کو سنایا ۔ مگر یہ کہ آپ نے اسے پسند کیا ایک ایسا امر ہے جس کے قبول کرنے میں ہمیں عذر ہے ۔ حضرت خلیفہ اول کی کوئی سند اس بیان کی تائید میں نہیں اور بیرونی اور اندرونی شہادتیں اس بیان کے خلاف ہیں۔ چنانچہ بیرونی شہادت کے طور پر میں حافظ روشن علی صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ایل ۔ ایم ایس کا بیان ذیل میں درج کرتا ہوں ۔ " مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کفر و اسلام کے متعلق واقعات روایت بزبان حافظ روشن علی صاحب مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفہ المسح الاول کے آخری ایام میں جبکہ آپ مرض الموت میں فریش تھے اور ہ غالباً فروری کا مہینہ تھا۔ ابھی آپ اس مکان میں تشریف رکھتے تھے جو آپ کا ذاتی ہے جو اندرون قریه قاریان واقع ہے کہ ایک دن دفتر الفضل میں ہمراہ صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے استاد حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی تشریف لائے انہوں نے بیان کیا