انوارالعلوم (جلد 6) — Page 158
انوار العلوم جلد 1 ۱۵۸ آئینہ صداقت بھی درست ہے کہ بعض باتیں آپ نے لکھوائیں بھی۔ مگر یہ غلط اور صریح غلط ہے کہ غیر احمدیوں کے مسلمان ثابت کرنے کے لئے آپ نے مولوی صاحب کو مضمون لکھنے کو کہا ۔ اور یہ خلاف واقعہ اور بالکل خلاف واقعہ ہے کہ میرے کسی لیچر یا اعلان کے باعث کہا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب ان دنوں قرآن کریم کے ترجمہ انگریزی کے لئے بعض آیات حضرت خلیفہ اول سے دریافت کیا کرتے تھے ۔ انہی اجلاسوں میں میری موجودگی میں حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا کہ مولوی صاحب قرآن کی بعض آیات ہیں عام طور پر لوگوں کو مغالطہ رہتا ہے اور وہ تطبیق نہیں دے سکتے ملا وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا لالج : (٢) أُولَئِكَ هُمُ الكَفِرُونَ حَقًّا ( النساء : ١٥٢) اور اور اسی طرح بعض اور آیات ہے اور آیات میں اختلاف خیال کیا جاتا ہے۔ آپ نوٹ لکھ رہے ہیں اس کے متعلق بھی ایک مضمون لکھیں۔ میں بھی آپ کو کچھ میں واقعہ نوٹ لکھواؤں گا۔ چنانچہ ان آیات کے متعلق آپ درمیان میں کچھ ارشاد فرماتے رہے ۔ یہ وا میری موجودگی میں ہوا ہے ۔ میں اس امر پر حلف اُٹھا سکتا ہوں کیا مولوی صاحب بھی اپنے بیان پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں ؟ پس مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ میرے کسی اعلان پر حضرت خلیفة المسیح الاول نے ایسا فرمایا تھا ۔ ایک ایسی غلط بیانی ہے کہ میں حیران ہوں اس کی جرأت مولوی صاحب کو کیونکر ہوئی ؟ تاریخ اختلاف سلسلہ کا ساتواں امر ساتواں قابل توجہ امر مولوی صاحب کا یہ تحریر فرمانا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے مجھے تنبیہ کی کہ میں کفر و اسلام کے مسئلہ کو نہیں سمجھا۔ بعض باتیں ہیں کہ جن میں انسان ایسے پہلو نکال سکتا ہے کہ اپنے حریف کو جھوٹا کہنے کی بجائے لکھ دے کہ اسے غلطی لگی ہے ۔ مگر مولوی صاحب کا یہ بیان ایسا خود ساختہ ہے کہ اس کے متعلق سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جان بوجھ کر انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے اپنی وفات سے پندرہ بیس دن پہلے مولوی محمد علی صاحب کو نوٹ لکھواتے ہوئے کسی ذکر پر فرمایا کہ بعض لوگ میری نسبت کہتے ہیں کہ اسے کیا ہو گیا ہے کہ یہ کبھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ دیتا ہے کبھی کافر لوگ اس بات کو سمجھے نہیں۔ حتی کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے ۔ چنانچہ اس کے متعلق بعض حاضر الوقت احباب سے میں حلفی شہادت لے کر رسالہ القول الفصل