انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 153

انوار العلوم جلد 4 ۱۵۳ آئینہ صداقت جن سے رفع فساد ہو جائے ۔ اس وقت مجھے یاد ہے ۔ دو تین آدمی اور بھی تھے ۔ جہاں تک مجھے خیال ہے ۔ سرحد کا ہی کوئی آدمی تھا۔ جس نے خط کے ذریعہ یہ سوال کیا تھا ۔ اور غالباً مفتی محمد صادق صاحب نے سوال پیش کیا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ مفتی صاحب کو یہ بات یاد ہے یا نہیں ۔ مگر میں اس پر حلف اُٹھا سکتا ہوں ۔ کیا مولوی محمد علی صاحب یا ان کے رفقاء اس امر پر حلف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں کہ حضرت خلیفہ اول نے میرے مضمون کا مفہوم وہی سمجھا تھا جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ نہیں وہ ایسا تھا کبھی نہیں او یں کریں گے۔ بلکہ اور بہانوں ے اس قسم سے بچنا چاہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میرے مضمون کا کچھ اور مفہوم سمجھنا نا ممکن ہے ۔ کی تاریخ اختلاف سلسلہ کا چھٹا امر چھٹا امر جو مولوی محمد علی صاحب کی بیان کردہ تاریخ سلسلہ میں قابل توجہ ہے ۔ ان کا یہ لکھنا ہے کہ اللہ کے آخر میں ایم محمود نے پھر اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود کے منکر کا فر ہیں۔ اس کی اطلاع حضرت خلیفہ المسیح کو ملی۔ حضرت خلیفہ اول کے اس فتویٰ کو بھی انہوں نے غلط ٹھرایا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی احمدی کے لئے نا جائز ہے حالانکہ خود اللہ میں حج میں انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی۔ اور حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں جن لوگوں نے حج کیا تھا۔ وہ بھی ایسا ہی کرتے رہے تھے چونکہ حضرت خلیفہ المسیح الاول بیمار تھے اس لئے آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو حکم دیا کہ وہ اس کے متعلق جماعت کو ہدایت کریں ۔ اور کچھ نوٹ بھی لکھوائے ۔ جماعت کو ہدایت کریں۔ اور کچھ بھی لکھوائے۔ حضرت خلیفہ البیع الاول کا خواجہ کمال الدین کو غیر احمدیوں کے پیچھے یہ امور بھی ویسے ہی غلط ہیں ۔ نماز پڑھنے کی اجازت دینا شخصی حالات کے ماتحت تھا جیسا کہ پہلے ۔ حضرت خلیفة المسیح نے کوئی فتویٰ غیر احمدی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا نہیں دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب ہمیشہ سے غیر احمدیوں کے خوف سے اور ان میں رسوخ پیدا کرنے کے لئے کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت مل جاوے۔ ولایت پہنچنے پر انہوں نے بڑے زور سے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں لکھنا شروع کیا کہ یہاں غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے سے بڑے فتنہ کا خوف ہے۔ لوگ اسلام سے بدظن ہو جاویں گے اور تبلیغ کا کام خراب ہو جائے گا۔ چونکہ