انوارالعلوم (جلد 6) — Page 145
انوار العلوم جلد 4 ۱۴۵ آئینه صداقت آپ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی تمام کمالات جملہ انبیاء سابقین کے بھی آپ کو حاصل ہیں" (صفحہ ۱) مراد خاتم النبین سے یہی ہے کہ آپ انتہاء درجہ پر کمالات نبوت کے پہنچے ہوئے ہیں۔ نہ یہ کہ آپ کا فیضان نبوت کسی فرد کو افراد امت میں سے ہرگز نہیں پہنچ سکتا ۔ (صفحہ ۲۴) اور نیز لکھتے ہیں۔ اگر صرف انبیاء ماسبق کے ہی آپ نبی الا نبیاء ہیں۔ تو اول تو اسکا ثبوت کیا ہے صرف دعویٰ ہی دعوی ہوا جاتا ہے جس کی کوئی دلیل بین موجود نہیں۔ کیونکہ آپ کے اتباع سے تو کوئی اس درجہ کو پہنچا ہی نہیں۔ پھر دعوی نبی الانبیاء کا کیا ثبوت ہے۔ دوسرے البتہ بموجب زخم مخالفین کے صرف ایک درجہ کمال کا تو آپ کو حاصل ہو گا۔ مگر درجہ تکمیل کا نعوذ باللہ آپ کو حاصل نہ ہوا حالانکہ جن انبیاء کے آپ سردار ہیں ان کو بھی یہ در جہ میل کا حاصل تھا۔ حضرت موسی کی امت میں بھی صد با نبی ان کی اتباع کے طفیل سے ہو گئے ہیں۔ حالانکہ حضرت موسی کا صرف اسقدر مرتبہ تھا کہ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتباعى (صفحه (4) (الیواقیت والجواهر امام شعرانی، اور پھر لکھتے ہیں کہ ۔ خاتم النبین کے ان معنوں سے کس قدر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان ثابت ہوتی ہے کہ جملہ انبیائے انین و آخرین تر آپ کے طفیلی رہے ۔ (صفحہ ۶۶) اور نیز لکھتے ہیں ۔ ہمارے دو دعواے ہیں ۔ اول تو یہ کہ بعد بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نبی شارع ہو کر قیامت تک نہیں آوے گا۔ دوسرا دعویٰ یہ کہ بذریعہ اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے تائید دین اسلام کی عند الضرورت نبی جزوی تابع نبوت کلیہ کے طفیلی ہو کر آسکتا ہے" (صفحہ ۶۳) تاریخ اختلاف سلسلہ کا پانچواں امر پانچواں قابلِ توجہ امر جو مولوی محمد علی صاحب نے تاریخ اختلافات سلسلہ میں لکھا ہے یہ ہے کہ جب ظہیر الدین اپنے عقائد پھیلا رہا تھا اس وقت میں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہ کرنے والوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیٹر دیا اور کو ظاہر یہ کیا گیا ہے کہ یہ مضمون حضرت خلیفہ اول کو دکھایا گیا ہے۔ مگر حضرت خلیفہ اول نے اس مضمون کو جن معنوں میں لیا ہے۔ اس کا پتہ اس طرح لگ جاتا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے ایک خطہ پر حضرت مولوی صاحب نے دستخط کئے ہیں جس میں یہ لکھا ہے۔ کہ ایم محمود کا مضمون صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جبکہ اس کے یہ معنے لئے جادیں کہ :۔ ۲۱ اليواقيت و الجواهر جلد ۲ صدر میں یہ روایت اس طرح درج ہے لَوْ كَانَ مُوسَى حَيَّا مَا وَسِعَه ! ہے تو كَانَ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي