انوارالعلوم (جلد 6) — Page 132
انوار العلوم جلد 4 AMI آئینه صداقت ال نے لکھے تھے ان کی حضرت خلیفتہ اسیح نے تردید کر دی تھی وہ اپنی ضد سے نہ ہٹا اور آپ کی تکذیب پر آمادہ ہو گیا ۔ جیسا کہ اس کے خط مطبوعہ الحکم ۱۴ اکتوبر سلالہ سے ظاہر ہے۔ جس میں وہ حضرت خلیفتہ ایچ کو لکھتا ہے ۔ نوازش نامہ آپ کا ملا ۔۔۔۔ اگر آپ کا مطلب صرف عبد الله تیما پوری اور یار محمد سے ہی تھا۔ اس کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول اسے یقین دلاتے ہیں کہ آپ کا اعلان اس کے متعلق نہیں تھا۔ بلکہ مولوی یار محمد صاحب اور عبداللہ تیجا پوری کے متعلق تھا۔ پھر بھی وہ اسے باور نہیں کرتا ۔ اور اگر کے ساتھ اسے مشکوک کرتا ہے ۔ اور آگے جا کر اس بات کو پھر دہراتا ہے کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے ۔ یہ تمام خط و کتابت اور خط و کتابت کی ابتداء کی وجہ ۱۴ اکتوبر شانہ کے الحکم میں درج ہے اور مولوی محمد علی صاحب کے اس بیان کی تردید کرتی ہے کہ نبی اللہ کے ظہور کو پڑھ کر حضرت خلیفہ السی نے خط و کتابت شروع کی ۔ بلکہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ خط و کتابت ظہیر الدین نے شروع کی تھی نہ کہ حضرت خلیفة المسیح نے اور یہ خط و کتابت اس وجہ سے نہیں شروع ہوئی کہ حضرت خلیفہ المسیح نے نبی اللہ کا ظہور کتاب پڑھ کر اسے ناپسند کیا تھا ۔ بلکہ اس وجہ سے کہ ظہیر الدین نے زمیندار میں حضرت خلیفہ المسیح کی لاہور کی تقریر کا غلط خلاصہ پڑھ کر اسے ناپسند کیا تھا۔ مولوی محمد علی صاحب کی کمال دلیری ہے کہ شائع شدہ واقعات کو بگاڑ کر انہیں شائع شدہ واقعات کے صریح خلاف نئے واقعات اپنی طرف سے بنا کر انہوں نے اپنی کتاب میں درج کر دیتے ہیں ۔ چہ دلاور است دزدے که بلف چراغ دارد ۔ کیا ظہیر کو حضرت خلیفہ اول نے نئے عقائد تیسرا قابل توجہ امر واقعہ ظہیر کے بیان میں مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمایا ہے شائع کرنے کی وجہ سے جماعت خارج کیا؟ اور کتابت کے بعد کا فر مات کہ خط و آخر حضرت خلیفہ المسیح نے یہ اعلان کیا کہ ۔ چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد کی اشاعت کر رہا ہے اس لئے جماعت احمدیہ سے اس کا کوئی تعلق نہ سمجھا جاوے۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں مولوی صاحب کا یہ بیان بھی بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے اور چونکہ مولوی صاحب نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ضروری سمجھا ہے کہ کتاب نبی اللہ کے ظہور کو فتنہ کا اصل باعث قرار دیں اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کو ان عقائد کے مخالف ثابت کریں اس لئے وہ اصل واقعات میں تحریف کرکے یا نئے واقعات بنا کر اپنے مدعا کو ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت خلیفہ اسیح کے اعلان میں ہرگز یہ نہیں لکھا کہ چونکہ ظہر الدین نئے