انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 130

انوار العلوم جلد 4 ١٣٠ آئینه صداقت که نور الدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں (الحکم ۱۴ اکتو بر شانه ها ) مکتوب حضرت خلیفہ اول - اور جولائی سنہ ) یہ خط و کتابت الحکم میں جو سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہے۔ ۱۴۔ اکتوبر سوانہ کے پرچہ میں حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی شائع ہو چکی ہے ۔ اور اسی کے صفحات 4 ، ے سے یہ حوالہ جات نقل کئے گئے ہیں ۔ ان حوالہ جات کے پڑھنے کے بعد ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے بیان میں کہ حضرت خلیفہ اسیح نے ظہیر الدین کی کتاب کو پڑھ کر نا پسند کیا ۔ اور اس سے خط و کتابت شروع کی مقدرات سے کام نہیں لیا کیونکہ جیسا کہ اس خط و کتابت سے جو آپ کے اور ظہیر الدین کے درمیان ہوئی ہے ۔ ثابت ہے۔ حضرت خلیفہ المسیح اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ آپ نے ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور کے خلاف اعلان کیا تھا ۔ اگر ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر اور اسے ناپسند کر کے اس سے خط و کتابت شروع کی گئی تھی تو پھر ناراضگی ثابت کرنے کے لئے کسی اعلان کی طرف ظہیر الدین کو اشارہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ حضرت خلیفہ اول کا خطہ ہی اس امر کی کافی شہادت ہو سکتا تھا کہ آپ نے اس کتاب کو ناپسند کیا ہے ۔ مگر ظہیر الدین بجائے اس خطہ کی طرف اشارہ کرنے کے حضرت خلیفہ اول کو لکھتا ہے کہ آپ نے میری کتاب کے خلاف ایک اعلان کیا ہے ۔ اور آپ اس کی اس بات کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ اعلان تو چند اور لوگوں کے اشتہارات کے متعلق تھا ۔ اور اپنی بات کے ثبوت میں خلاف اپنی عادت کے ان دو اشخاص کا نام بھی لکھ دیتے ہیں۔ جن کے خلاف وہ اعلان تھا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنی کوئی ٹریکیٹ پڑھ کر ہرگز اسے نا پسند نہیں کیا۔ بلکہ آپ تو اس امر کی کہ آپ نے کسی اعلان میں اسے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے تردید کرتے ہیں ۔ بلکہ ظہیر الدین کی شکایت کرتے ہیں کہ باوجود آپ کی اس تحریر کے کیوں اس نے بڑی صفائی سے لکھ دیا کہ نور الدین کے عقائد سے میں مخالفت رکھتا ہوں " اگر فی الواقع ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم منے کوئی رسالہ پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین سے خط و کتابت شروع کی تھی۔ تو پھر اس شبہ کی تردید کی کیا ضرورت تھی۔ کہ حضرت خلیفہ المسیح کے اعلان میں ظہیر کی طرف اشارہ ہے ۔ اور کیا وجہ تھی کہ اس اعلان میں ظہیر کو شامل نہ کیا گیا۔ اور پھر کیا سبب تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح تحریر فرماتے ہیں کہ جب میں نے تم کو بتا دیا ہے ۔ کہ تم اس ا اس اعلان کا مصداق نہیں ہو۔ پھر بھی تم لکھتے ہو کہ تم سے مجھے اختلاف عقائد ہے ۔ اگر ظہیر کی کتاب کو پڑھ کر حضرت خلیفہ المسیح نے ناپسند کیا تھا تو اس اعلان میں خواہ اس کا ذکر ہوتا یا نہ ہوتا ہر حال اس کے عقائد سے آپ کو اختلاف رکھنا ثابت تھا۔ مگر آپ اس 11