انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 127

انوار العلوم جلد 4 ۱۲۷ آئینه صداقت غلطی نہیں کہلا سکتا ۔ اصل بات یہ ہے کہ ظہیر الدین اپنے خطرناک عقائد کی وجہ سے اسلام کی تعلیم سے بہت دور جا پڑا ہے اور مولوی محمد علی صاحب نے خیال کیا ہے کہ اگر میرے خیالات کا نتیجہ قرار دیا جائے تو لوگوں میں عام طور سے ان کے خلاف ایک نفرت پیدا ہو جاوے گی اور مولوی صاحب کے خیالات سے انس پیدا ہو جائیگا۔ مگر مولوی صاحب چاند پر خاک نہیں ڈال سکتے اور روشنی کو اندھیرا قرار نہیں دے سکتے ۔ پس جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں اور جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب خوب جانتے ہیں ۔ گو وہ اس کا اظہار کرنا خلاف مصلحت خیال کرتے ہیں۔ نبوت مسیح موعود کا عقیدہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت سے ہی ظاہر کرتا چلا آیا ہوں۔ اور آپ کی وفات کے بعد بھی عملہ شایه نانه نالہ میں متواتر اس عقیدہ کا اعلان میری طرف سے مختلف مضامین کے ذریعہ سے ہوتا رہا ہے اور اس سلسلہ کا سب سے آخری مضمون بھی جسے مولوی صاحب بھی اپنی اغراض زمیمہ کو پورا کرنے کے لئے اول مضمون قرار دیتے ہیں ظہیر الدین کے مضمون کے لکھا جانے سے ایک ماہ پہلے لکھا جا چکا تھا۔ اور اس کے مضمون شائع ہونے سے تین ماہ پہلے شائع ہو چکا تھا۔ پس اس کو میرے خیالات کا بانی کہنا یا ان عقائد کا جو میں پھیلاتا ہوں موجد قرار دینا ایک ایسی خلاف بیانی ہے جس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملے گی ۔ ان عقائد کے بانی حضرت میں موجود ہی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے آنے والے مسیح کو نبی اللہ کہا ہے نہیں بلکہ خود خدا تعالیٰ ہے جس نے خود مسیح موعود کو نبی کہہ کر پکارا ہے ۔ عم بعض مسیحی مؤرخ رخ تعصب سے اندھے ہو کر دنیا کو دھوکا دینے کیلئے اسلام کو اس وقت کے چند غیر مفخرو لوگوں کے خیالات کا نتیجہ قرار دینے میں جس جرات سے کام لے چکے ہیں۔ اس پر تو حیرت آیا ہی کرتی تھی ۔ مگر چہ دلاور است دزدی که بکف چراغ دارد کا جو نظارہ مولوی صاحب نے دکھایا ہے وہ ان مسیحیوں کی دیدہ دلیری سے بھی بہت بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ وہ تو زمانہ ماضی کے واقعات کو بگاڑنے کی کوشش کرتے تھے اور مولوی صاحب ان خیالات کے متعلق جن کی تائید شاہ میں وہ خود کر چکے ہیں اور جن کا اظہار ان کی موجودگی میں بعد میں تواتر ہوتا رہا ہے سالانہ کے شائع ہونے والے ایک رسالہ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ کا تاریخ اختلاف سلسلہ کا دوسرا امر بخرخت کیا حضرت خلیفہ اول نے ظہیر کو اسکے رسالہ کی وجہ سے دوسرا امرتاریخ اختلاف سلسلہ میں مولوی صاحب نے یا نئے عقائد شائع کرنے کی وجہ سے جماعت سے نکالا یہ لکھا ہے کہ :۔