انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 98

انوار العلوم جلد 4 ۹۸ آئینہ صداقت قلم سے اس اخبار کے ایڈیٹر کو ۲۳ مئی شاہ کو اپنی وفات سے دو تین دن پہلے لکھا جس میں سے یہ چند سطور نقل کی جاتی ہیں ، تحریر فرماتے ہیں:۔ " پرچه اخبار عام میں مسیح موعود کا صاحب شرع نبی ہونے سے انکار در این اخبار اعلام ۲۳ رمٹی کے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا میں نے جلسہ دعوت میں نبوت سے انکار کیا ۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ اس جلسہ میں میں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنے ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلہ علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے ۔ دشمنوں کا الزام دور کرنے کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود اپنے دعوے کے متعلق اس خط میں یہ فرماتے ہیں کہ :۔ جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولنا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جنتک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا ۔ اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے سوئیں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا۔ " پھر دوسرے انبیاء علیہم السلام کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ :- منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشنگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے تھے “ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹ حاشیه ) ( ان تینوں تحریروں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے شمن آپ پر تشریعی نبی ہونے کا الزام لگاتے تھے لیکن آپ اس سے انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں تو ان معنوں میں نبی ہوں کہ مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے۔ اور پہلے انبیاء بھی اپنی معنوں میں نبی پر اطلاع ہے۔ اور اپنی میں نیک