انوارالعلوم (جلد 5) — Page 74
انوار العلوم جلد ۵ ۷۴ صداقت اسلام پھر جب وہ نکاح کرتا ہے اور نکاح کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں گزرتے کہ اس پیشگوئی کے ماتحت مر جاتا ہے۔ پھر جیسا کہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ رجوع کر لیں گے تو بلا ٹل جائے گی ۔ باقی لوگ رجوع کرتے ہیں اور اس عورت کی طرف سے پیغام آتا ہے کہ اس معاملہ میں میرا تو کوئی قصور نہیں مجھے معاف کیا جائے ۔ اس طرح گویا وہ اسلام کی بہتک سے تو یہ کرتی ہے پھر دوسرے رشتہ دار بھی تو بہ کرتے ہیں اور اس طرح پیشگوئی کا دوسرا حصہ جو تو بہ کرنے پربلا کے ٹلنے کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔ پورا ہوتا ہے چنانچہ وہ عورت اور اس کا خاوند اب تک زندہ ہیں ۔ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ ان کا نہ مرنا اس پیشگوئی کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہے۔ لیکن دراصل ان کا زندہ رہنا پیشگوئی کے سچا ہونے کا ثبوت ہے ۔ کیونکہ اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ خوبی تُونِي فَإِنَّ الْبَسَلَامَ عَلَى عَقِبِكِ انذكره صفر۱۳۵ ایڈیشن چهارم، یعنی اگر توبہ کریں تو بلا مل جائے گی۔ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتنگ آمیز الفاظ استعمال کئے تھے اس کی لڑکی کے خاوند کا مرنا اس کے لئے عذاب تھا ۔ اگر وہ توبہ کر لیتی تو یہ عذاب ہٹا دیا جانا ۔ کیونکہ اگر با وجود اس کے توبہ کرنے کے اس عذاب کو ہٹایا نہ جاتا تو یہ پیش گوئی غلط نکلتی ۔ لیکن چونکہ اس نے توبہ کی اس لئے یہ عذاب ہٹا دیا گیا اور اسے معاف کر دیا گیا ۔ پھر اس لڑکی کی جس شخص سے شادی ہوئی تھی اس نے ایک خط لکھا جس میں حضرت مرزا صاحب کی تعریف کی ۔ پھر اس لڑکی کے اور رشتہ داروں نے بھی توبہ کرلی اور اس طرح یہ پیشگوئی پوری ہوئی اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر پیش گوئی پوری نہ ہوسکتی تھی اور کہا جاسکتا تھا کہ یہ پیشگوئی ایک بالا رادہ کام کرنے والی ہستی کی طرف سے نہ تھی ۔ کیونکہ فرض کرو ایک مکان پر پہاڑ سے پتھر کرتا ہے اور صاحب مکان کے بھائی بیٹے اور دوسرے رشتہ دار اس کے نیچے دب کر مر جاتے ہیں ۔ اس کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مالک مکان نے اپنے ارادے سے پھر گرایا تھا۔ کیونکہ اگر وہ ارادہ سے پھر گرا تا تو اپنے رشتہ داروں کو ضرور خبر کر دیتا اور انہیں بچا لیتا اور اپنے دشمنوں کو ہلاک ہونے دیتا ۔ تو بالا راده و کسی فعل کہلا سکتا ہے جو انسان کے اعمال کے مطابق ہو۔ دیکھو پولیس ارادہ سے اسی کو پکڑتی ہے جو مجرم ہوتا ہے غیر محرم کو نہیں پکڑتی۔ یہ ممکن ہے کہ غلطی سے کسی غیر مجرم کو پکڑے لیکن عقل اور سمجھ کے ماتحت یہی ہوتا ہے کہ مجرم کو گرفتار کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر مجسٹریٹ کسی بے قصور کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ منزا دینے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ ہیں کہا جائے گا کہ وہ ارادہ کے ماتحت کام کرتا ہے۔ لیں اگر تو بہ کرنے پر بھی وہ لوگ ہلاک کئے جاتے تو کہا جا سکتا تھا کہ پیشگوئی غلط نکلی اور کسی نجومی کی پیشنگوئی تھی۔ مگر جب انہوں نے توبہ کر لی اور بچ گئے تو صاف ظاہر ہوگیا کہ پیشگوئی پوری ہو گئی اور اس بستی کی