انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 71

انوار العلوم جلد ۵ 41 کیونکہ آخر یہ اس پیغمبر کی محبت کا دعوی کرتے ہیں جس کا میں غلام ہوں ۔ صداقت اسلام تو گھر کے لوگوں نے اس کا مقابلہ کیا اس کے آگے رکاڈ میں ڈالیں اس کے پیروؤں کو گھروں سے نکال دیا ۔ ہر قسم کی تکلیفیں اور دُکھ دیئے مگر پھر بھی وہ غریب اور مفلس لوگ ایک ایک کر کے بڑھنے لگے انہوں نے اپنے اور اپنی بیوی بچوں کے خرچ بند کر کے اسلام کی اشاعت کے لئے خرچ دیئے اور باوجود مخالفتوں کے ترقی کی ۔ لوگوں نے چاہا کہ اسلام نہ پھیلے مگر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ روشن ہو اس لئے روشن ہوا لیپس اسلام دنیا میں پھیلا اور پھیل رہا ہے اور اسلام نے دنیا کو منور کیا اور کر رہا ہے جو کہ اس شخص کے بیچتے اور خدا تعالٰی کا برگزیدہ ہونے کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کی کامیابی امریکہ کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ نیا میں کام کرنیوالے لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو دوسروں کو اپنے پیچھے چلاتے ہیں اور دوسرے وہ جو لوگوں کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی ملک میں تعلیم نہ ہو اس میں ایک ایسا شخص کھڑا ہو جائے جو تعلیم کو پھیلانا اپنا مقصد قرار دے لے۔ گو ابتداء میں اس کی مخالفت ہو گی اور اس کے خلاف بعض لوگ کھڑے ہوں گے لیکن آخر کار وہ کامیاب ہو جائے گا۔ کیونکہ لوگوں کو حالات اور واقعات مجبور کر دیں گے کہ تعلیم حاصل کریں لیکن ایک ایسا شخص جو ایسی باتیں لے کر کھڑا ہو جن کے ماننے کے لئے حالات مجبور نہ کریں بلکہ ان کے خلاف اکسائیں اس کی کامیابی بہت مشکل ہوتی ہے ۔ حضرت مرزا صاحب ایسے ہی لوگوں میں سے تھے کیونکہ جو کچھ انہوں نے آکر کہا سب کے سب اس کے خلاف کھڑے ہو گئے اور زمانہ کے حالات بالکل اس کے مخالف تھے۔ لوگ یہ تو مانتے تھے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا رہا ہے لیکن یہ نہ مانتے تھے کہ اس زمانہ میں بھی کوئی انسان ایسا ہو سکتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کلام کرے اور مرزا صاحب یہی منوانا چاہتے تھے ۔ کیونکہ آپ دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے نہ کہ اہل دنیا با حسین جس طرف چل رہے تھے اسی طرف چلا انے نے۔ کے لئے کھڑے ہوئے تھے ۔ اس لئے آپ کا کامیاب ہونا ایک عظیم الشان بات اور آپ کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب ہے ۔ نے وقت زار روس کے متعلق حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی پھر اس نے قبل از وقت بتایا کہ دنیا میں ایک خطرناک جنگ ہوگی اور اس میں زار زار کی حالت خراب ، خراب ہو جائے گی ۔ چنانچہ فرمایا " زار بھی زار بھی ہوگا تو ہو گا اس گھڑی با حال زالہ " اور ایسا ہی ہوا پھر اس پیشگوئی میں اس نے جنگ کا تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ۔ یہاں تک کہ بعض علام تذکره صفحه ۴۰ ۵ یایش چهارم مت