انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 60

انوار العلوم جلده 4۔ صداقت اسلام سورۃ فاتحہ کی لطیف تفسیر ورود را فتح میں ان دونوں باتوںکو لیا گیا ہے اور اس میں ایسے اصول بیان کئے گئے ہیں کہ ممکن نہیں اگر انسان ان پر عمل کرے تو خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق نہ پیدا ہو۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ اللہ نام ہے خدا کا اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہستی جس میں کوئی نقص نہیں اور تمام خوبیوں کی جامع ہے ۔ دنیا میں لوگ ایسی چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو سب خوبیوں سے متصف نہیں ہوتیں اور ایسی نہیں ہوتیں کہ ان میں کسی قسم کا نقص نہ پایا جاتا ہو مثلاً عورتوں پر عاشق ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ جس عورت پر کوئی عاشق ہوتا ہے وہ دنیا کے سارے حسن کی جامع ہوتی ہے ۔ قصہ مشہور ہے کہ لیلی کو دیکھ کر کس نے مجنوں کو کہا تھا کہ وہ تو کوئی خوبصورت ری نہیں تم کیوں عاشق ہو ؟ مجنوں نے کھا لیلی کو میری آنکھ سے دیکھنا چاہئے ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ لیلی را بچشم مجنوں بائد دید ۔ تو کوئی عورت ایسی نہیں ہوسکتی جو تمام حسن کی جامع ہو اور نہ ہی کوئی اور چیز ایسی ہو سکتی ہے جس میں کوئی نقص نہ پایا جاتا ہو ۔ مگر خدا ایسا ہے کہ تمام خوبیوں کا جامع ہے اور تمام نقص نقصوں سے پاک ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ ہی وہ ہستی ہے جو تمام خوبیوں کی جامع ہے ۔ ہم چاند کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور خوش نما پہاڑوں کو دیکھ کر مسرت حاصل کرتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ ہمیں کچھ دیتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ اپنی ذات میں اچھے لگتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ الحَمدُ - اسے انسان اگر تو ان لوگوں میں۔ سے ہے جو چیز کی ذاتی : ذاتی خوبی کی و کی وجہ سے اس سے محبت کرتے ہیں تو آئیں مجھے بتاؤں کہ اسلام وہ خدا کھاتا ہے جو تمام نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔ لیکن چونکہ تمام فطرتیں ایسی نہیں ہوتیں کہ صرف یہ جان کر کسی چیز سے محبت کریں کہ وہ اپنی ذات میں اچھی ہے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں فائدہ بھی پہنچائے گو یہ گری ہوئی فطرت کے انسان ہوتے ہیں ان کے متعلق فرماتا ہے ۔ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ وہ اپنے حسن کے علاوہ تم پر احسان بھی کرے ۔ تو آؤ تمہیں بتائیں خدا وہ ہے کہ جو تمہیں پیدا کرتا اور پھر ادنی اور گیری ہوئی حالت سے ترقی دے کر اعلیٰ درجہ پر پہنچاتا ہے مثلاً انسان کے جسم کا کوئی حصہ گیوں سے بنتا ہے کوئی چینے سے کوئی جو سے یا اور وہ چیزیں جو انسان کھاتا ہے ان سے ایک مادہ بنتا ہے اور اس کا آگے انسان تیار ہو کر صفحہ دنیا پر آجاتا اور بڑے بڑے کام کرتا ہے ۔ یہ سب خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے ہی کھیل ہیں۔ تو فرمایا۔ اللہ تمہارا رب اور تمہارا محسن ہے ۔ پھر ایک دو کا نہیں بلکہ رب العالمین سب کا ہے ۔ خواہ کوئی یورپ کا رہنے والا ہو یا افریقہ کا یا امریکہ کا۔ لله ا