انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page viii

انوار العلوم جلد ۵ تعارف کتب ایک ایک اینٹ جو ان کی طرف سے لندن میں مسجد کی رکھی جائے گی وہ گویا ترقی اسلام کی بنیاد کی اینٹ ہو گی ۔ اس وقت دنیاوی طور پر خواہ کیسے ہی وسیع دماغ کا آدمی ہو وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتا کہ یہ لوگ بھی کچھ کیسے ہی کا ہو وہ بات کو سکتا کہ یہ کر سکتے ہیں۔ اور یہ پہنچ ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے مگر خدا تعالیٰ ان سے بہت کچھ کر سکتا ہے ۔ *** صداقت احمدیت سید نا حضرت خلیفہ السیح الثانی الصلح الموعود نے لاہور کے بعض احمدی تاجروں کی درخواست پر افادہ عام کے لئے وار جنوری شاہ کو بیرون دہلی دروازہ صداقت احمدیت" کے عنوان پر ایک یکچرار شاد فرمایا جو ان چھ عظیم الشان لیکچروں میں سے ایک ہے جو حضور نے ۱۳ فروری سے ۱۳ فرودی سیکھائی ١٩٢٠ء انہ تک لاہور اور امرتسر کے سفر کے دوران مختلف مقامات پر دیئے تھے۔ حضور کا یہ لکچر گھنٹے جاری رہا اور غر ری رہا اور غیر از جماعت سامعین اس سے بہت متاثر ہوئے۔ الفضل یکم مارچ - نشاء صفحہ ۸ ) اسے سب سے پہلے مکرم محمد یا مین صاحب تاجر کتب قادیان نے کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ اس تبلیغی نیچر میں حضور نے آنحضرت لی اللہ علی وسلم کی فضیلت پیش فرما کر سچائی کو پرکھنے کا یک بڑا بھاری معیار پیش فرمایا ہے جس کی بنیاد حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر رکھی ہے کہ درخت اپنے پھیل ہی سے پہچانا جاتا ہے ۔ حضور نے یہ معیار ان الفاظ میں پیش فرمایا ہے :۔ اسلام کے ہر مسئلہ کے متعلق غور کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہی عقیدہ درست اور صحیح ہو سکتا ہے جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور سب کمالات کا جامع ہونا ثابت ہو اور جس عقیدہ سے یہ ثابت ہو کہ آپ کسی سے افضل نہیں رہتے یا اس کے اختیار کرنے سے آپ کے کسی کمال میں نقص پایا جاتا ہے تو وہ عقیدہ قطعاً اسلام کے خلاف، تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو گا ؟ اس معیار کے مطابق حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش فرمودہ عقائد وفات مسیح کے فوائد اور مسلمانوں کے مروجہ عقیدہ حیات مسیح کے نقصانات بیان فرما کر احمدیت کی صداقت کو