انوارالعلوم (جلد 5) — Page 58
انوار العلوم جلد ۵ ۵۸ صداقت اسلام ذلِكَ هُدَى اللهِ صرف خوف اور ڈر تو ڈراؤنی چیزوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس سے صرف خوف نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ہی محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔ خوف دو قسم کی چیزوں سے پیدا ہوا کرتا ہے۔ ایک ایسی چیزوں سے جو ڈراؤنی ہوں اور دوسری وہ جو شان و شوکت والی ہوں ۔ لیکن ڈراونی چیزوں سے صرف خوف پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ چونکہ یہ شان والی ہے اس لئے اس کی عظمت اور شان کی وجہ سے اس کا خوف پیدا ہوتا ہے جس کے ساتھ محبت بھی ہوتی ہے چنانچہ فرماتا ہے ان کی جلدیں محبت سے نرم ہو جاتی ہیں۔ تو قرآن یہ دعوی کرتا ہے کہ اس میں سب سے بہتر تعلیم ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہی مذہب ستیجا ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ میں سب سے بہتر تعلیم پیش کرتا ہوں۔ نہ وہ جو یہ کہے کہ اور کسی مذہب میں کوئی سچائی ہی نہیں ۔ پھر وہ مذہب سچا ہو سکتا ہے جو ایسی تعلیم دے جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے اور قرآن دعوای کرتا ہے کہ میرے اندر وہ رستہ موجود ہے جس پر چل کر انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ اب ہم قرآن کے اس دعوای پر نظر کرتے ہیں کہ آیا یہ ٹھیک ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ سے انسان کا تعلق پیدا کر دیتا ہے۔ مگر اس مسئلہ کے دیکھنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ سے انسان کا جو تعلق ہوتا ہے وہ کسی طرح ہوتا ہے کسی چیز کے اچھا ہونے کا سائینٹیفک ذریعہ سے اس طرح ثبوت مل سکتا ہے کہ اس کے لئے طریق کیا بتایا گیا ہے ۔ اگر وہ طریق صحیح ہو تو خواہ اس کو ماننے کا دعوی کرنے والوں کی حالت کیسی ہی ہو اس سے اس مذہب پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ انہوں نے اس طریق پر عمل نہیں کیا ۔ مثلاً کوئی شخص جیل خانہ میں جائے اور وہاں ہندوؤں ، سکھوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کو دیکھے اور کہے کہ سب کے مذاہب چھوٹے ہیں کیونکہ اگر سچا مذہب رکھتے ہوتے تو جیل خانہ میں نہ پڑے ہوتے ۔ تو یہ درست نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے مذہب کے خلاف کیا تب جیل خانہ میں ڈالے گئے۔ اگر اپنے اپنے مذہب کے احکام کی پابندی کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ پس کسی مذہب کو سچا معلوم کرنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا اس نے ایسے اصول بتائے ہیں یا نہیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو سکتا ہے ۔ اگر بتائے ہوں لیکن اس مذہب کے ماننے والے ایسے لوگ نظر آئیں جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہے تو یہی کہا جائے گا کہ ان کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس مذہب میں نقص ہے۔ جیسے کو تین تیپ میں فائدہ دیتی ہے لیکن اگر کوئی کو نین کو ہاتھ میں دبائے رکھے یا جیب میں ڈالے رکھے اور کہے کہ مجھے اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا تو اسے کہا جائے گا کہ کھانے سے فائدہ ہوا کرتا ہے نہ کہ ہاتھ میں پکڑنے یا جیب