انوارالعلوم (جلد 5) — Page 45
انوار العلوم جلد ۵ ۴۵ صداقت احمدیت بھی کیا جاتا ہے۔ محبت میں تو کچھ نظر ہی نہیں آتا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہ پانی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے صحابہ آپس میں لڑ پڑتے عبد الله بن عمر حج کو جاتے ہوتے اسی جگہ پیشاب کرتے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پر جاتے ہوئے کیا تھا ۔ آج کہا جائے گا کہ یہ بیہودہ بات تھی ۔ مگر محبت کا علم جاننے والے جانتے ہیں کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ایک بات پیاری لگتی ہے۔ مگر کیسے افسوس کی بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کی اُمت بگڑ جائے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کوئی انتظام نہیں کرتا ۔ پس اگر کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے تمام لوگ ہمیشہ نیک اور پر سہیز گار ہی رہیں گے اس لئے ان کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کے آنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بات صحیح ہے تو واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اترت کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر یہ نظر آتے کہ مسلمان کہلانے والوں نے نمازیں چھوڑ دی ہوں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں نہیں آتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان گھروں کو مع ان کے جلا کر راکھ سیاہ کر دوں۔ اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا رحیم کریم انسان عشاء کی نماز کے لئے یہ فرماتا ہے تو دوسری نمازوں کے لئے خود سمجھ میں آسکتا ہے کہ ان کا پڑھنا کتنا ضروری ہے۔ پس اگر لوگوں نے نمازیں چھوڑ دی ہیں اور زکوۃ جس کے متعلق حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جو اونٹ کی رسی تک نہیں دے گا میں اس سے جہاد کروں گا اس کا دینا ترک کر دیا ہے اور اسی طرح شریعت کے دوسرے احکام کو چھوڑ دیا ہے تو پھر کیوں ان کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے ؟ ہاں اگر مسلمان نہ بگڑتے تو ان کو کسی مصلح کی بھی ضرورت نہ ہوتی مگر جب ان کا بگڑنا ثابت ہے تو پھر یہ کیوں نہ مانا جائے کہ خدا تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے سامان بھی کیا ہو گا ۔ اگر نہیں کیا تو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے ۔ مگر ہم کہتے ہیں یہ تو انگور رکھتے ہیں والی مثال ہے ۔ جب ہر ایک شخص دیکھ رہا ہے حتی کہ دشمن بھی تسلیم کرتے ہیںکہ مسلمانوں کی حالت بگڑ چکی ہے تو پھر یہ کہا کہ نہیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں اپنی بیہودگی کا ثبوت دینا ہے ۔ امکان نبوت کی اصلیت باقی رہا یہ کہ کوئی کے سلم میں مجد اور مامور توبے شک آئیں لیکن کوئی نبی نہیں آسکتا کیونکہ اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ لم عد بخاري - كتاب الشروط - باب الشروط فى الجهاد والمصالحة مع اهل الحرب وكتابة الشروط بخاری - کتاب الاحکام - باب اخراج الخصوم واهل الريب من البيوت بعد المعرفة