انوارالعلوم (جلد 5) — Page 597
انوار العلوم جلد ۵ ۵۹۷ ہدایات زریں کے سامنے پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر اس میں بھی ذوق سلیم ہوتا اور اس کا دل اس قابل ہوتا ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے تو وہ احمدی کیوں نہ ہوگیا ہوتا اور کیوں الگ رہتا ۔ اس کا تم سے الگ رہنا بتاتا ہے کہ اس میں وہ ذوق سلیم نہیں ہے جو تمہارے اندر ہے ۔ ۔ اور ابھی اس کا دل اس قابل نہیں نہیں ہوا کہ ایسا ذوق اس کے اندر پیدا ہو سکے۔ اس لئے پہلے اس کے اندر یہ ذوق پیدا کرو اور پھر اس قسیم کی دلیلیں اسے سناؤ۔ ورنہ اس کا الٹا اثر پڑے گا۔ کئی مبلغ ہیں جو مخالفین کے سامنے اپنی ذوقی باتیں سنانے لگ جاتے ہیں اور اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے۔ کیونکہ مخالف اس کا ثبوت مانگتا ہے تو وہ دیا نہیں جا سکتا اور اس طرح زک اُٹھانی پڑتی ہے۔ پیس مخالفین کے سامنے ایسے لائل پیش کرنے چاہئیں جو عقلی ہوں اور جن کی صحت ثابت کی جاسکے ۔ انیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کوئی موقع تبلیغ کا جانے نہ دے۔ اسے ایک انیسویں ہدایت دست گئی ہو کہ جہاں جائے جس مجلس میں جائے، جس مجمع میں جائے، تبلیغ کا پہلو نکال ہی ہے ۔ جن لوگوں کو باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ہر ایک مجلس میں بات کرنے کا موقع نکال لیتے ہیں۔ مجھے باتیں نکالنے کی مشق نہیں ہے اس لئے بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ گھنٹہ گھنٹہ بیٹھے رہنے پر بھی کوئی بات نہیں کی جاسکتی ۔ حضرت مسیح موعود عام طور پر باتیں کر لیتے تھے ۔ مگر پھر بھی بعض دفعہ چپ بیٹھے رہتے تھے ۔ ایسے موقع کے لئے بعض لوگوں نے مثلاً میاں معراج الدین صاحب اور خلیفہ رجب الدین صاحب نے یہ عمدہ طریقی نکالا تھا کہ کوئی سوال پیش کر دیتے تھے کہ حضور مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں اس پر تقریر شروع ہو جاتی ۔ تو بعض لوگوں کو ہو باتیں کرنے کی خوب عادت ہوتی ہے ۔ اور بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں چپ کرانا پڑتا ہے۔ مبلغوں کے لئے باتیں کرنے کا ڈھب سیکھنا نہایت ضروری ہے ۔ میر صاحب ہمارے نانا جان کو خدا کے فضل سے یہ بات خوب آتی ہے ۔ میں نے ان کیساتھ سفر میں رہ کر دیکھا کہ خواہ کوئی کسی قسم کی بھی باتیں کر رہا ہو۔ وہ اس سے تبلیغ کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔ بیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ بیہودہ بحثوں میں نہ پڑے۔ بلکہ اپنے کام سے بیسویں ہدایت کام رکھے۔ مثلاً گریل میں سوارہ ہو تو یہ نہیں کہ ترک موالات پر بحث شروع کر دے ۔ میں نے اس کے متعلق کتاب لکھی ہے مگر اس لئے لکھی ہے کہ میرے لئے جماعت کی سیاسی حالت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور سیاسی طور پر اپنی جماعت کی حفاظت کرنابھی میرا فرض ہے ۔ اگر میں صرف مبلغ ہوتا تو کبھی اس کے متعلق کچھ نہ لکھتا کیونکہ مبلغ کو ایسی باتوں میں پڑنے امين