انوارالعلوم (جلد 5) — Page 581
انوار العلوم جلد ۵ ۵۸۱ ہدایات زرین ماننا ہے دوسری جگہ نہ جائیں گے تو وہاں کے ایسے لوگوں کو جو جلدی ماننے والے ہیں اپنے ہاتھ سے کھو دیں گے اور ان کو اپنے ساتھ نہ ملا سکیں گے۔ مگر ہمارے مبلغوں نے ابھی تک اس بات کو سمجھا نہیں اور اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہزاروں اور لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو صداقت کو قبول کرنے سے ابھی تک محروم ہیں ۔ اگر سب جگہ ہماری جماعت کے مبلغ جاتے تو بہت سے لوگ مان لیتے ۔ چونکہ ہر جگہ ایسی طبیعتیں موجود ہیں جو جلد صداقت کو قبول کرنے والی ہوتی ہیں اس لئے ہر جگہ تبلیغ کرنی چاہئے ۔ یہاں ایک دوست نے بتایا کہ ایک شخص ان کو ریل میں ملا۔ معمولی گفتگو ہوئی اور اس نے مان لیا اور پھر وہ یہاں آیا ۔ صرف تین روپے اس کی تنخواہ ہے اور روٹی کپڑا اسے ملتا ہے مگر اس میں بڑا اخلاص ہے اور اخبار خریدتا ہے۔ تو صرف ایک دن کی ملاقات کی وجہ سے وہ احمدی ہو گیا۔ ہمیں دائرہ اثر وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر مبلغین کی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہوتا مبلغ کو دلیر ہونا چاہئے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مبلغ کی دلیری اور جرات کا بھی دوسروں پر اثر پڑتا ہے اور لوگ اس کی جرات کو دیکھ کر ہی مان لیتے ہیں ۔ کئی ہندو اور مسلمان اسی لئے عیسائی ہو گئے کہ انہوں نے پادریوں کی اشاعت مسیحیت میں دلیری اور جرات کو دیکھا اور اس سے متأثر ہو گئے تو مبلغ کو دلیر ہونا چاہئے اور کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے اور ایسے علاقوں میں جانا چاہئے جہاں تا حال تبلیغ نہ ہوئی ہو۔ دیری اور جرات ایسی چیز ہے کہ تمام دنیا میں کرام کی نظرسے دکھی جاتی ہے اور مبلغ کے لئے سب سے زیادہ دلیر ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن کر جاتا ہے ۔ اگر مبلغ ہی دیر نہ ہوگا تو دوسروں میں جو اسے اپنے لئے نمونہ سمجھتے ہیں دلیری کہاں سے آئے گی ۔ ہمارے مبلغوں میں نمونہ بجھتے ہیں سے اس بات کی کمی ہے اور وہ بہت سے علاقے اسی دلیری کے نہ ہونے کی وجہ سے فتح نہیں کر سکتے ور نہ بعض علاقے ایسے ہیں کہ اگر کوئی جرأت کر کے چلا جائے تو صرف دیا سلائی لگانے کی ضرورت ہو گی آگے خود بخود شعلے نکلنے شروع ہو جائیں گے ، مثلاً افغانستان اور خاص کر سرحدی علاقے ان میں اگر کوئی مبلغ زندگی کی پرواہ نہ کر کے چلا جائے تو بہت جلد سارے کے سارے علاقہ کے لوگ احمدی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کی حالت عربوں کی طرح کی ہے وہ جب احمدی ہوں گے تو اکٹھے کے اکٹھے ہی ہونگے عام طور پر متمدن ممالک میں قوانین کے ذریعہ بہت کام چلایا جاتا ہے مثلاً اگر میاں کسی کو کوئی دشمن قتل نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کہ زید یا بکر کے دوست اور اس کے ہم قوم اس کا مقابلہ کریں گے شه