انوارالعلوم (جلد 5) — Page 579
انوار العلوم جلد ۵ ۵۷۹ ہدایات زرین عرض تبلیغ کرنے والوں کے لئے یہ دونوں باتیں نہایت ضروری ہیں کہ وہ عقلی دلائل کا ظاہری نمونہ بھی ہوں اور پھر جذبات بھی ان میں موجود ہوں ۔ یوں تو ہر وقت ہی ہوں مگر تقریر کرتے وقت خاص طور پر ابھرے ہوئے ہوں ۔ یہ جو باتیں میں نے بتائی ہیں یہ تو اصولی ہیں ۔ اب میں کچھ فروعی با میں بتاتا ہوں جو ہر ایک مبلغ کو یاد رکھنی چاہیں۔ پہلی ہدایت سونے سے پہلے یہ کہ مبلغ بے اور سب سے پہلے یہ ضروری بات ہے کہ مبلغ بے غرض ہو اور سننے والوں کو معلوم ہو کہ اس کی ہم سے کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ ورنہ اگر مبلغ کی کوئی ذاتی نہ غرض ان لوگوں سے ہوگی تو وہ خواہ نماز پر ہی تقریر کر رہا ہو گا سننے والوں کو یہی آواز آرہی ہوگی کہ مجھے فلاں چیز دے دو۔ فلاں دے دو مسلمانوں کے واعظوں میں یہ بہت ہی بُری عادت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنے وعظ کے بعد کوئی غرض پیش کر کے امداد مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس سے سننے والوں کے ذہن میں یہ بات داخل ہو گئی ہے کہ وعظ کرنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا چاہئے اور اسے ایک فرض سمجھا جاتا ہے ۔ یہ ایسی بری رسم پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی واعظ وعظ کر رہا ہو تو سننے والے حساب ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے اور ہم اس میںسے کسقدر مولوی صاحب کو دے سکتے ہیں اور کتنا گھر کے خرچ کے لئے رکھ سکتے ہیں۔ اس رسم کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر مولوی وعظ کے بعد مانگتے ہیں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے اسے پورا کر دیا جائے ۔ اس کا بہت برا اثر ہو رہا ہے ۔ کیونکہ واعظ کی باتوں کو توجہ اور غور سے نہیں سنا جاتا ۔ پس واعظ کو بالکل مستغنی نغنى المزاج اور اور بے بے غرض غرض ہونا چاہئے چاہیے۔ ۔ اگرکسی اگر کسی وقت شامت اعمال سے کوئی طمع یا لایچ پیدا بھی ہو تو وعظ کرنا بالکل چھوڑ دینا چاہئے اور توبہ واستغفار کرنا چاہئے اور جب وہ حالت دور ہو جائے پھر بے غرض ہو کر کھڑا ہونا چاہئے ۔ اور وعظ کے ساتھ اپنے اندر اور باہر سے لوگوں پر ثابت کر بے ہوکر کھڑا اور کے ساتھ اپنے اندر اور باہر پڑتا دینا چاہئے کہ وہ ان سے کوئی ذاتی فائدہ اور نفع کی اُمید نہیں رکھتا اور نہ ان سے اپنی ذات اور نہ ان سے اپنی ذات کے لئے کچھ چاہتا ہے۔ جب کوئی مبلغ اپنے آپ کو الیسا ثابت کر دیگا تو اس کے وعظ کا اثر ہو گا ورنہ و عظہ بالکل بے اثر جانے گا۔ اسی طرح دوسرے وقت میں بھی سوال کرنے سے واعظ کو بالکل بیچنا چاہئے ۔ سوال کرنا تو یوں بھی منع ہے اور کسی مومن کے لئے پسندیدہ بات نہیں ہے۔ لیکن اگر واعظ سوال کرے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وعظ اسی وجہ سے ہی کرتا ہے ہیں یہ نہایت ہی ناپسندیدہ بات ہے اور واعظوں کو خاص طور پر اس سے بچنا