انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 573

انوار العلوم جلد ۵ ۵۷۳ ہدایات زریں تو ان پر عمل نہیں کرتے۔ ان کو اصول کے علاوہ فروغ سے بھی آگاہ کرنا۔ دو ہے۔ ایک ظاہر کے غرض دو طرح کی تبلیغ ہوتی ہے۔ ایک ظاہر کے متعلق اور ایک باطن کے متعلق ۔ وہ لوگ جو ابھی اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے ان کے تو قفل لگے ہوئے ہیں۔ جب تک پہلے وہ نہ کھلیں ان کے باطن میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی اس لئے ان کی بیرونی اصلاح کی ضرورت ہے لئے ان کی کی انہیں اصولی باتیں سمجھائی جائیں۔ مگر جو اپنی جماعت کے لوگ ہیں ان کے تو قفل کھلے ہوئے ہیں انکی اندرونی اصلاح کی جا سکتی ہے ۔ ان میں روحانیت ، تقویٰ ، طہارت اور پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ مبلغ کے کام کی اہمیت یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مبلغ کا فرض بہت بڑا ہوتا ہے۔ لوگ کسی ایک بات کو بھی آسانی سے نہیں مانتے۔ لیکن مبلغ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں باتوں کو منوائے ۔ پھر ایک آدمی سے منوانا بہت مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ ساری دنیا کو منوایا جائے ۔ انتظام کے طور پر اور کام چلانے کے لئے خواہ مبلغوں کے لئے علاقے تقسیم کر دیے جائیں ۔ مگر اصل بات یہی ہے کہ جو ضلع گورداسپور میں تبلیغ کرتا ہے وہ اسی ضلع کا مبلغ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کا مبلغ ہے ۔ اسی طرح ضلع لاہور میں جو تبلیغ کرتا ہے وہ لاہور کا مبلغ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کا مبلغ ہے کیونکہ مبلغ کے لئے کوئی خاص علاقہ قرہ نہیں کیا گیا بلہ قرآن کریم میں میں بتایا گیا ہے کہ ملک کا علاقہ سب دنیا ہے ۔ غرض مبلغوں کا کام بہت بڑا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ حکومتیں بھی اس کام کو نہیں کر سکتیں ۔ حکومتیں زور سے یہ باتیں منواتی ہیں کہ چوری نہ کرو، قتل نہ کرو، ڈاکہ نہ ڈالو مگر ان باتوں کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتیں۔ حکومتیں یہ تو کر سکتی ہیں کہ مجرم کو پھانسی پر چڑھا کر مار دیں لیکن یہ نہیں کر سکتیں کہ جرم کا میلان دل سے نکال دیں۔ مگر مبلغ کا کام دل سے غلط باتوں کا نکالنا اور ان کی جگہ صحیح باتوں کو داخل کرنا ہوتا ہے۔ پس مبلغ کا کام ایسا مشکل ہے کہ حکومتیں بھی اس کے کرنے سے عاجز ہیں اور باوجود ہتھیاروں ، قید خانوں، فوجوں ، مجسٹریٹوں اور دوسرے ساز و سامان کے عاجز ہیں۔ مبلغ کے مددگار جب مبلغ کا کام اس قدر وسیع اور اس قدر مشکل ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کام کوکیونکر