انوارالعلوم (جلد 5) — Page 557
انوار العلوم جلد ۵ ۵۵۷ آمَنُوا ذكرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّى عَلَيْكُمْ وَمَلَئِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ (الاحزاب : ۴۲ - ۴۴) اے مومنو ! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو ۔ اور صبح شام تسبیح کرو۔ وہ خدا ہی ہے اور اس کے ملائکہ جو تم پر درود بھیجتے ہیں ۔ تاکہ تم کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے جاویں۔ ایک جگہ تو حکم دیا ہے کہ چونکہ خدا اور ملائکہ اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔ اور دوسری جگہ یہ فرمایا کہ خدا اور ملائکہ تم پر درود بھیجتے ہیں۔ پہلی آیت کے مطابق یہاں بھی یہ چاہئے تھا کہ چونکہ خدا اور ملا کہ تم پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی ایک دوسرے پر درود بھیجو لیکن یہ نہیں کہا گیا۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلی بات مستقل حکم کا رنگ رکھتی تھی بینی چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں لگتا س لئے تم بھی بھیجو۔ اور دوسری آی میں اس فعل کی جزاء بتائی کہ چونکہت نے اس حکم کی تعیل کی اس لئے اس کی جزاء میں خدا اور رسول ان پر بھیجنے لگ گئے۔ گویا وہاں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کی وجہ سے درود کا حکم دیا گیا تھا۔ اور یہاں اس کی جزاء کو بیان کیا گیا ہے اور چونکہ جزاء کے بدلے میں پھر اور حکم نہیں دیا جاتا اس لئے آگے یہ نہیں فرمایا کہ تم دوسرے بندوں پر بھی درود بھیجو مثلاً جب ہم روپیہ دے کر کپڑا خریدیں تو کپڑا دینے والا یہ نہیں کہ سکتا کہ میں نے جو کپڑا دیا ہے اس کا تم نے کوئی بدلہ نہیں دیا۔ تو پہلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر بھیجتے ہیں اس لئے اس لئے تم بھی بھیجو۔ مگر مومنوں کے لئے کسی فرمایا کہ ہم اور ملائکہ ان پر درود بھیجتے درودی ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی اپنے بھائیوں پر درود بھیجو۔ غرض اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ملائکہ کیساتھ تعلق ہو جاتا ہے ۔ پس جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں گے ان کی ملائکہ سے ایک نسبت ہو جائے گی اور اس طرح ان سے تعلق ہو جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ صلحاء نے رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم پر درود بھیجنے کو بڑا اعلیٰ عمل قرار دیا ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ دعا جس میں خدا کی حمد اور مجھ پر درود نہ ہو وہ دعا قبول نہیں ہوگی رسنن ابی داؤد کتاب الصلوة باب الدعاء، اس کا یہی مطلب ہے کہ جس دعا میں خدا تعالیٰ کی حمد اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہو گا وہ زیادہ قبول ہو گی ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں جو چیزیں ایک طرح کی ہوتی ہیں ان کا آپس میں بہت تعلق ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِينَ لَنَزَلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولاً (بنی اسرائیل : ۹۶) اگر دنیا میں ملائکہ ہوتے تو ہم بھی فرشتے رسول بنا کر نازل