انوارالعلوم (جلد 5) — Page 544
انوار العلوم جلد ۵ لدلم ملا نكتة الله اب میں اس سوال کی طرف آتا وں کہ اگرنیکی کی تحریک ے بھی زیادہ ذرائع ہیں توپھر کیا وہ ہے کہ دنیا میں شیطانی انسان زیادہ ہوتے ہیں اور دوسرے کم ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطانی اثر ملائکہ کے اثرات کی نسبت زیادہ ہیں۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ شیطانی اور ملائکہ کی تحریکات کا مقابلہ اس طرح نہیں کرنا چاہئے کہ بڑے لوگ زیادہ ہوتے ہیں یا نیک ۔ بلکہ اس طرح کرنا چاہئے کہ ہر انسان کے اندر نیکی کی تحریک زیادہ ہوتی ہے یا برائی کی ۔ اس بات کو دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کے اکثر کام کا کثر کام کیکی پر زیادہ مشتمل ہوتے ہیں بنسبت بدی کے۔ اور بدی صرف اس لئے زیادہ نظر آتی ہے کہ وہ گھناؤنی شئے ہونے کے سبب نمایاں نظر آتی ہے ۔ اس لئے رسول کریم صلی الہ علیہ سلم نےفرمایا ہے کہ ایک وقت سب لوگ جہنم سے نکل آئیں گئے ۔ (مسند احم من قبل جلد صفحہ ۲ حاشیہ) ۶ ۱۰۲ ایک شخص جو چوری کرتا ہے اسے بڑا بدمعاش اور برا انسان کہا جائے گا۔ مگر اور کئی عیب ہوں گے جو اس میں نہیں ہوں گے۔ اور کئی اچھی باتیں ہوں گی جو اس میں پائی جاتی ہوں گی ۔ گویا اس میں کئی نیکیاں ہوں گی اور چوری کرنا ایک برائی ہوگی۔ اور کوئی شخص ایسانہ ہو گا جس میں برائیاں زیادہ ہوں اور ان کے مقابلہ میں نیکیاں کم ہوں ۔ تو نیکی دنیا میں زیادہ ہوتی ہے اور برائی کم مگر چونکہ برائی پر ہر ایک کی نظر پڑتی ہے اس لئے وہ نمایاں طور پر نظر آجاتی ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کا صرف ناک کٹا ہو اور باقی اعضاء بالکل درست ہوں تو اس کے ناک پر ہی نظر پڑے گی ۔ اور باقی اعضاء کی خوبصورتی کوئی نہ دیکھے گا۔ تو نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن لوگوں کی نظر بُرائی پر پڑتی ہے اس لئے اس کو زیادہ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ فرشتہ دل میں تحریک کس طرح کرتا ہے۔ اور اس کے تحریک کرنے کا کیا ذریعہ ہے ؟ اس کی تحریک کرنے کے متعلق اپنے تجربہ سے اور خدا کے ان مقرب لوگوں کے تجربہ سے جنہیں علم دیا گیا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان کوئی نیک کام کرتا ہے تو ٹینک اس کے دل میں اس کام کی محبت پیدا کر دیتا ہے ۔ اور جب کوئی انسان ارادہ کر لیتا ہے کہ میں نیکی کے اس راستہ پر چلوں گا تو ملک ہر موقع کے آنے پر اسے اطلاع دیتا رہتا ہے کہ موقع آگیا ہے اس سے فائدہ اُٹھا لو ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک انسان کو مجبور کر کے وہ کام کراتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اسے اطلاع دیتا رہتا ہے ۔