انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 539

انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۹ ملائكة الله یعنی آفات اور بلائیں اور مصیبتیں ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ دنیا کے حوادث انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اگر انسان دنیا میں حتی المقدور علیحدگی اختیار کرے تو وہ اس حالت سے بچ سکتا ہے ۔ غرض دل کے بڑے خیالات کا نام بھی شیطان رکھا گیا ہے ۔ لمہ لگی اور شیطانی انسان کی قلبی حالت کا نتیجہ ہوتے ہیں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ پہلے ملک یا شیطان کی تحریک نہیں ہوتی ۔ پہلی تحریک خواہ بڑی ہو یا اچھی انسان کے اپنے قلب سےپیدا ہوتیہے رسول صلی علیہ فرماتےہیں پیدا ہوتی ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر انسان فطرت پر پیدا کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر انسا نیکی پر پیا کیا گیا ہے پھر حالات * اور محبتوں سے اس کے قلب میں خیال پیدا ہوتے ہیں ۔ ان خیالات کو بڑھانے کے لئے جو نیک ہوتے ہیں ملائکہ آجاتے ہیں اور بک کے لئے شیطان - چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ كَانَ لَهُ مِنْ قَلْبِهِ وَاعِظُ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ حَافظ جس کے اپنے دل میں نیک خیال پیدا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے ایک نگران فرشتہ کو مقرر کر دیتا ہے۔ اور یہی حال بری تحریکوں کا ہوتا ہے جس کے دل میں بڑے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں اس کے اوپر ایک شیطان مسلط ہو جاتا ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ نیکی اور بدی پہلے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ گو اس کی تحریک بیرونی اسباب سے ہوتی ہو۔ اور پھر اگر نیک تحریک ہو تو ملک اس کو بڑھاتا ہے ۔ اور اگر بید ہو تو شیطان ایسے آدمی کے ساتھ لگ جاتا ہے ۔ ورنہ اگر تحریک پہلے ہی سے باہر سے آتی اور قلب کا اس سے تعلق نہ ہوتا اور اس کے قبول کرنے یار دکرنے میں اس کا کوئی دخل نہ ہوتا تو پھر انسان مجود ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ کند ہم جنس باہم جنس پرواز کے ماتحت جب قلب میں نیکی کی پیدا جاتا تحریک پیدا ہوتی ہے تو ملائکہ سے تعلق ہو جاتا ہے اور جب بُرائی کی تحریک ہوتی ہے تو بد ارواح تعلق پیدا کر لیتی ہیں ۔ پس یہ جو دونوں تحریکیں ہیں ان کے متعلق یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے۔ بہت لوگ سوال کیا کرتے احیاء علوم الدین مؤلفه امام غزالی جزء ۳ کتاب شرح عجائب انقلب بیان مجامع أوصاف القلب و امثلته مطبوعہ بیروت