انوارالعلوم (جلد 5) — Page 520
انوار العلوم جلد ۔ ۵۲۰ ملائكة الله کا موکل ہے اس کا نتیجہ بخار پیدا کرتا ہے لیکن جب انسان ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے خواص مخفی در مخفی سلسلہ اسباب کے نتیجہ میں بخار کو اتارنے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ تو اس وقت ان اشیاء کا آخری موکل فرشتہ اپنا اثر ظاہر کرنا شروع کرتا ہے ۔ اور پہلا فرشتہ بموجب مقررہ قواعد کے اپنے اثر کو ہٹانا شروع کر دیتا ہے ۔ پس یہ کہنا درست نہیں کہ دوا سے بیماری کا اثر ظاہر کرنے والا فرشتہ بھاگ جاتا ہے، بلکہ امر واقع یہ ہے کہ جب دوا کے فرشتہ کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے تو بیماری کے آثار ظاہر کرنے والا فرشتہ اپنے اثر کو ہٹانا شروع کر دیتا ہے ۔ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ اب میں اس بات کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیاگیا ہے؟ ماناکہ ملائکہ اچھی چیز ہیں اور ان کے ذریعہ چیزوں کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن کو مین بھی تو مفید چیز ہے اس سے تپ اُتر جاتا ہے ۔ اس پر ایمان لانے کا کیوں حکم نہیں دیا گیا ؟ اسی طرح تم کہتے ہو ۔ ملائکہ بارشیں برساتے ہیں مگر سورج بھی تو بارشیں برسنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس پر ایمان لانے کا کیوں بھی کا ہوتا ہے اس ایمان نہیں حکم دیا گیا ؟ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے ؟ ۔ اس کے متعلق غور کرنے کے لئے آؤ یہ معلوم کریں کہ رسولوں ، کتابوں پر ایمان لانے کا کیوں حکم دیا گیا ہے ؟ جب یہ معلوم ہو جائے گا تو ہیں اس اصل کا پتہ لگ جائے گا جس کی وجہ سے کسی شے پر ایمان لانے کا حکم دیا جاتا ہے اس کو خانہ کے متعلق بھی چسپاں کر کے رکھیں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہستی جو بالذات ایمان کی مستحق ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے رسول اور کتابیں وہ ذرائع ہیں جن سے خدا پر ایمان لایا جاتا ہے ۔ ورنہ اصل میں وہ مقصود بالذات نہیں ہیں ۔ آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ خدا کی شناخت ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے ملاقات ہوتی ہے۔ چونکہ وہ خدا کا کلام ہوتی ہیں اس لئے ان کے ذریعہ انسان خدا کی ذات کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسولوں پر ایمان لانے کی یہ وجہ ہے کہ رسول خدا تعالیٰ کی مستی کا نشانات کے ذریعہ ہونا ثابت کرتے ہیں تو رسول پر ایمان لانا ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ رسول خدا پر ایمان لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پس رسولوں پر کتب پر،