انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 518

انوار العلوم جلد ۵ ۵۱۸ ملائكة الله لئے نہیں کہ خدا اس کا محتاج ہے بلکہ اس لئے کہ زمینداروں میں سے جو بڑا زمیندار بنا چاہتا اور اچھی کھیتی پیدا کرنا چاہتا ہے اس کو اس کی احتیاج ہے اگر زمین کا عمدہ پھل لان کی محنت یا علم پرنہ رکھا جاتا تو سی زمیندار کو دوسرے پر فضیلت نہ ہوتی اور مقابلہ کی جو روح اس وقت کام کر رہی ہے بالکل مفقود ہو جاتی ۔ دوسرے یہ بھی بات ہے کہ اگر مخفی اسباب نہ ہوتے تو خدا کا جلال لوگوں پر ظاہر نہ ہوتا اور اس کی قدرت کی قدر وہ نہ کرتے ۔ اگر سب باتیں پہلے سے ہی معلوم ہوتیں تو خدا کا جلال کس طرح بندوں پر ظاہر ہوتا ؟ یہ اسی طرح ظاہر ہوتا کہ انسان کسی بات کے متعلق جتنی تلاش اور جستجو کرتا ہے اتنا ہی اس کے متعلق نئی نئی باتیں دریافت کرتا جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی قدرت کا اسے اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ پس مخفی اسباب کا پیدا کرنا خدا کی احتیاج کو ظاہر نہیں کرتا۔ بلکہ یہ بندہ کی اصلاح اور فائدہ کے لئے ہے ۔ اور یہ مخفی اسباب جن کے دریافت کرنے سے درجہ اور ترقی اور عزت حاصل ہو سکتی ہے ان کی آخری کڑی ملائکہ ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اسباب اس وسعت کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ آپ کو جو ترقی اور درجہ حاصل ہوا ۔ وہ اور کسی کو حاصل نہ ہو سکا ۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود پر یہ اسباب ظاہر ہوئے اور آپ کو بھی اعلیٰ عزت اور رتبہ نصیب ہو گیا ۔ پھر ان کے ذریعہ مجھ پر بھی یہ اسباب ظاہر ہوئے اور مجھے بھی خدا تعالیٰ نے عزت اور کرتبہ عطا کیا ۔ تو یہ مدارج کا تفاوت بھی نہ ہوتا اور سب ایک ہی جیسے ہوتے لیکن مخفی اسباب کی وجہ سے جتنے جتنے اسباب کسی پر ظاہر ہوئے انہی کے مطابق اس کو درجہ بھی ملا۔ اس امر میں کیا شبہ ہے کہ بالعموم مسبب ظاہر ہوتا ہے اور سبب مخفی ۔ اور مخفی کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو محنت برداشت کرنی پڑتی ہے جو اس کے لئے موجب ثواب اور زیادت علم ہوتی ہے اور اس کی دلچسپی کو بڑھاتی ہے۔ یہ ایک طبعی خاصہ ہے کہ مخفی شے انسان کی پیچیبی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ دوائیوں کی تاثیرات اور ایجادات اس قبیل میں سے ہیں ۔ اور ان اسباب کا دریافت کرنا ہی مدارج انسانی قائم کرتا ہے ۔ پس روحانی اسباب مخفیہ بھی ضروری تھے تا انسان کے علم باطن میں بھی زیادتی ہو اور کوشش اور سعی میں بھی تفاوت ہو۔ اور روحانی آدمی ایک دوسرے کرتا ہے۔ در کوشش کے مقابلہ میں فضیلت حاصل کریں اور مسابقت کا موقعہ ملے اور مخفی در مخفی علوم کی واقفیت حاصل کر کے اس کے یقین میں ترقی اور حوصلہ میں زیادتی ہو اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتیں اس کے سامنے ظاہر ہوں ۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو جو اس کا وجود مخفی کرتا تھا استقاد