انوارالعلوم (جلد 5) — Page 513
انوارالعلوم جلد ۵ ۵۱۳ ملائكة الله غرض جسمانی سلسلہ اس طرز پر واقع ہوا ہے کہ لطیف ہوتے ہوتے بالکل غائب ہو جاتا ہے اور کوئی ذریعہ اس کے دیکھنے کا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی روحانی سلسلہ کے لئے بھی ہونا ضروری ہے اور ہے۔ اور اس سلسلہ کی آخری کڑی ملک ہیں ۔ یہ کہنا کہ روحانی امور میں سبب نہیں ہوتا ۔ صرف جسمانی امور میں ہوتا ہے غلطی ہے جسمانیات کے متعلق ایک فلاسفر نے یہاں تک لکھا ہے کہ کوئی بات یونی نہیں ہو جاتی بلکہ ہر ایک بات کے اسباب دور دور سے چلے آتے ہیں۔ پس جب جسمانیات میں کوئی بات بغیر سلسلہ اسباب کے نہیں ہوتی تو کیا روحانی امور ہی ایسے ہیں کہ ان میں اسباب کا سلسلہ نہ مانا جائے جب جسمانی امور کا سلسلہ چلتا ہے تو ضروری ہے کہ مشابہت کے لئے روحانی امور میں بھی چلے۔ اور روحانی امور کے سلسلہ کی آخری کڑی ملائکہ ہیں ۔ پس روحانیات کے لئے ملائکہ کی ضرورت ہے ۔ (۲) ہم ہر چیز میں ارتقاء پاتے ہیں۔ اور اسی مسئلہ ارتقاء کی عمومیت کو دیکھ کر سائنس دان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ جو انسان موجود ہے یہ پہلے سے ہی ایسا نہ تھا ۔ پہلے یہ ایک کیڑے کی شکل میں تھا پھر ترقی کرکے بڑھا پھر اور بڑھا حتی کہ موجودہ حالت کو پہنچ گیا۔ مسئلہ ارتقاء کا یہ استعمال تو غلط معلوم ہوتا ہے اور کئی طرح سے رد کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اس مسئلہ پر غور کرنے سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے متغائر حالات میں تبدیلی یا تو مختلف مدارج کو چاہتی ہے یا وسائط کی محتاج ہے ۔ یکدم بالکل متاثر حالات کی طرف انتقال بالکل محال ہے۔ پیپس ایک طرف انسان کے اندر اعلیٰ سے اعلی ترقیات کے حصول کی خواہش اور خدا تعالیٰ سے وصال کی تڑپ کا ہونا اور دوسری طرف اس کی موجودہ کثافت کا اس سے ملنے میں روک ہونا دونوں امراس نتیجہ پر ہمیں پہنچاتے ہیں کہ انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک اور واسطہ ہونا چاہئے جو ایک طرف تو مخلوق ہو اور دوسری طرف نیک اور روحانی ہو۔ اور اس واسطہ کو ملائکہ کہتے ہیں۔ کتے ہیں کہ ایک شخص کسی بلند مینار پر چڑھا مگر اتر نہ سکتا تھا۔ کسی نے تیر کے ساتھ باریک تاگے کی ریل باندھ کر تیر اس کی طرف مارا اور اس نے پکڑ لیا ۔ اس بار یک تاگے کو اس نے نیچے لٹکا دیا اور نیچے والے نے اس کے ساتھ ذرا موٹا تا گا باندھ دیا جسے اس نے اوپر کھینچ لیا۔ پھر اس کے ساتھ اور زیادہ موٹا تا گا باندھا گیا حتی کہ ایک زنجیر باندھی گئی اور وہ اس کے ذریعہ نیچے اتر آیا۔ اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ بندہ کا تعلق خدا سے ہوتا جاتا ہے۔ وہ درمیانی کڑی ہیں جن کے ذریعہ بندہ کا خدا سے تعلق ہوتا ہے اور وہ اس کے فیوض کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے تعلق