انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 496

انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۶ ملائكة الله پاس جانے کے لئے روانہ ہوا تاکہ اس کے پاس تو بہ کرے مگر راستے میں ہی مر گیا۔ اس پر جنت والے فرشتوں نے کہا کہ ہم اسے جنت میں لے جائیں گے کہ یہ توبہ کی نیت کر چکا تھا اور دوزخ والے فرشتوں نے کہا ہم اسے دوزخ میں لے جائیں گے کہ یہ تو بہ کرنے سے پہلے مر گیا۔ (مسلم کتاب التوبة باب قبول توبة المقاتل وان كثر قتله ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ میں ارادہ ہوتا ہے۔ پھر اس آیت سے بھی پتہ لگتا ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٌ بِالْمَلَكِ الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ ) (ص : ٤٠) مجھے کیا معلوم تھا اس بحث کا حال جب فرشتے آپس میں بحث کر رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے سے بحث بھی کر لیتے ہیں پس ان میں ارادہ پایا جاتا ہے مگر نہایت محدود بار ہوں باتے ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں۔ کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَئِكَةِ أَهْؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ ) قَالُوا سُبُحْنَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمُ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ ) (سبا: ۴۱-۴۲) اور جس دن کہ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ پھر ملائکہ سے کہے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ۔ وہ کہیں گے تو پاک ہے ان سے ہمارا کیا واسطہ ہے۔ ہمارا دوست تو تو ہے۔ یہ لوگ تو جنوں کی عبادت کرتے تھے ۔ اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان لاتے تھے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں کیونکہ اگرانہیں علم غ علم غیب ہوتا تو وہ عبادت سے لاعلمی ظاہر نہ کرتے ۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے یونہی سوال کیا تھا۔ کیونکہ ایسے موقع میں بلاوجہ سوال بھی ایک قسم کا جھوٹ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ۔ دوم پچھلی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ فرشتوں کی عبادت کے بھی قائل تھے ۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے بوجہ عدم علم کے اس امر سے انکار کر دیں گے کہ بعض انسان ان کی عبادت کرتے تھے بعض حدیثوں سے بھی یہ بات وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے کہ فرشتے عالم الغیب نہیں ہوتے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم فرماتے ہیں۔ ایک شخص مؤمن کہلاتا اور مومنوں والے کام کرتا ہے ۔ اس کے کا تب فرشتے جب اس کے عمل لے کر خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنے کے لئے لے ۔ لئے لے جاتے ہیں۔ مثلاً وہ نماز پڑھتا ہے اور وہ اس عمل کو اس کے حضور میں