انوارالعلوم (جلد 5) — Page 494
انوار العلوم جلد ۔ ۴۹۴ ملائكة الله گیا ہے ۔ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے :- وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّلِمُونَ فِي غَمَرَتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ أخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ أَيْتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ ، ( الأنعام : ۹۴) یعنی اور کاش کہ تو دیکھے اس گھڑی کو جب کہ ظالم موت کی تکلیف میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھوں کو ان کی طرف دراز کئے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ نکالو اپنی جانوں کو ۔ آج کے دن تم رسوائی کا عذاب دیئے جاؤ گے ۔ یہ سبب تمہارے اللہ تعالیٰ کے متعلق نادرست باتوں کے کہنے کے اور یہ سبب اس کے نشانات سے تکبر کر کے اعراض کرنے کے ۔ اسی طرح فرماتا ہے :۔ إِنَّ الَّذِينَ تَوَتُهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ (الفاء : ) معنی ضرور وہ لوگ کہ جن کی ملائکہ روح قبض کریں گے ایسے حال میں کہ وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے ۔ ان سے ملائکہ کہیں گے کہ تم کسی خیال میں ٹھہرے ہوئے تھے ؟ اب ان تینوں آیتوں کو ملا کر دیکھو کہ اول الذکر آیت میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ سب انسانوں کی جانیں نکالنے کا کام صرف ایک ہی فرشتہ کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اور دوسری دونوں آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے که جان بہت سے فرشتے نکالتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل تو ایک فرشتہ ہے مگر آگے اس کے ہیں۔ نائب بہت سے فرشتے ہیں جو اس کی اطاعت میں اس کام کو بجالاتے ہیں۔ اور جب موت کے انتظام میں افسری ماتحتی کے سلسلہ کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو دوسرے امور کو بھی اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ تمام امور جو فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتے ہیں۔ وہ چند بڑے فرشتوں کے سپرد ہیں ۔ اور آگے ان کے ماتحت شمار سے باہر ایک جماعت کام کرتی ہے ۔ دسویں بات یہ ہے کہ فرشتوں میں انسان کی طاقتوں کے مقابلہ میں محدود طاقتیں ہو اقتیں ہوتی ہیں۔ ملائکہ ایک ہی حالت میں رہتے ہیں لیکن رہتے ہیں لیکن انسان بہت ترقی کر سکتا ہے ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ہے :- وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَائِلَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ ، قَالُوا سُبْحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَّا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (البقرة : ٣٢ - ٣٣ ) اللہ نے آدم کو سارے نام سکھا دیتے اور پھر ملائکہ کے سامنے ان چیزوں کو جن کے نام سکھائے تھے پیش کیا۔ اور پوچھا کہ مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم حق پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ یہیں کچھ علم نہیں۔