انوارالعلوم (جلد 5) — Page 487
انوار العلوم جلد ۵ ۴۸۷ ملائكة الله بعد آیا ہے اس لئے چونکہ جن یہودیوں سے یہ نام لیا ہے ان میں اس کو رحمت کا فرشتہ اور کلام لانے والا مانا جاتا ہے اس لئے آگ کا فرشتہ کہنا غلط ہے۔ پھر بائیبل میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اسے رحمت کا فرشتہ قرار دیا گیا ہے۔ طالمود میں آتا ہے کہ دانیال نبی کے زمانہ میں جن لوگوں کو آگ میں ڈالا گیا تھا ان کو بچانے والا جبرائیل ہی تھا ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو لوگ آگ میں ڈالنے لگے تو جبرائیل نے خدا تعالیٰ سے ڈالنے لو خدا کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو بچاؤں ۔ خدا تعالٰی نے کہا نہیں تمہیں اس کی اجازت نہیں دی مکہ میں اس خدا نے کہا اس کی نہیں دی جاتی ۔ ابراہیم بھی زمین میں ایک ہی ہے اور میں بھی ایک ہی ہوں اس لئے میں ہی اسے بچاؤں گا ہے جو ہمارے ہاں ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے لگے تو جبرائیل ان کے یہ وہی بات ہے جو ہمارے مارے ہاں سے کہ حضرت کو میں لگے تو پاس آیا اور کہا مجھ سے کچھ مانگ لو۔ انہوں نے کہا تم سے میں کچھ نہیں مانگتا ۔ اس پر اس نے کہا پھر خدا سے مانگو ۔ انہوں نے کہا خدا سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا وہ خود نہیں دیکھتا کہ میری کیا حالت ہے ؟ طالمود میں آتا ہے کہ جبرائیل کو خدا نے کہا کہ تو نہیں میں ابراہیم کو بچانے کے لئے جاؤں گا ۔ مگر میں تیری اس نیکی کو ضائع نہیں کروں گا ۔ آئندہ ابراہیم کی اولاد میں سے ایک کو بچانے کے لئے تجھے اجازت دوں گا ۔ چنانچہ دانیال کے وقت جو لوگ آگ میں ڈالے گئے تو اس وقت خدا نے جبرائیل کو ان کے بچانے کی اجازت دی اور اس نے انہیں بچایا۔ غرض کہو دیوں میں بھی شروع سے لے کر آخر تک فرشتوں کا ذکر چلتا ہے اور انہیں خدا کا بیٹا کیا گیا ہے ۔ ۔ ہندو مذہب میں ملائکہ کا ذکر اسی طرح ہندوؤں میں بھی فرشتوں کا ذکر پایا جاتا ہے سمجھتے ہیں جن کی پوجا کرنی چاہئے ۔ مگر دراصل یہ فرشتے تھے جو خدا کا کلام لاتے تھے کیونکہ تھے جو کا تھے کیوں نکہت دو اور ورونہ کا ہی ہے۔ دو ہو انہ کا تعلق بھی سے دو ہومانہ اور ورونہ کا کام ایک ہی معلوم ہوتا ہے ۔ دو ہو مانہ کا تعلق بھی سورج سے بتاتے ہیں اور ورونہ کا بھی سورج سے ہی ۔ مگر غلطی سے یہی سمجھا جانے لگا کہ چونکہ سورج سے ان کا تعلق ہے اس لئے سورج خدا ہے اور اس طرح سورج کو خدا ماننے لگ گئے۔ اس میں شک نہیں کہ ان کا تعلق سورج سے ہے ۔ جیسا کہ اسلام میں سورج کا تعلق جبرائیل سے بتایا گیا ہے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے کہ اس کا تعلق سورج سے ہے جبرائیل ورونه وغیرہ نام آتے ہیں ۔ عام لوگ ان کو ایسی رو میں