انوارالعلوم (جلد 5) — Page 465
انوار العلوم جلد ۵ لدمام اصلاح نفس کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم اسی کی خواہش کرنے پر نہ رہیں گے بلکہ اپنی طرف سے دیں گے ۔ پھر فرماتا ہے ۔ ۔ وَادْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتَهُمْ فِيهَا سَلَّمَ (ابراهيم : ۲۴) یہ وہ لوگ جو مومن ہوں گے۔ ان کو اعلیٰ مقام پر جگہ دی جائے گی اور جب وہ اس مقام پر پہنیں گے ۔ شتے ان کے پاس آئیں گے ۔ اور انہیں مرجا ر ہا ئینگے یعنی یہ کہ تم سلامتیوں میں رہو یہ کسی قدر اکرام ہے کہ خدا تعالیٰ کے وزراء آکر بندوں کا استقبال کریں گے۔ اپنے متعلقین کو عزت ملنے کی خواہش پر انسان چاہتا ہے کہ صرف اسی صورت حاصل ہو بلکہ اس کے متعلقین کو بھی عزت ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَهُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِه جَنَّتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ ، سَلَمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِه (الرعد : ۲۳ تا ۲۵ ) کہ وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی مرضی چاہنے کے لئے اور نمازوں کو قائم کیا اور خرچ کیا اس میں سے جو ان کو دیا گیا پوشیدہ اور ظاہر اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ بدی کو ہٹا دیا سی وہ لوگ ہیں جن کا آخری گھر جنت ہے۔ وہ اس میں داخل کئے جائیں گے ۔ اور ان کے آباء اور بیویاں اور اولاد کو بھی جنہوں نے ایسا ہی کیا داخل کیا جائے گا ۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے ۔ اور ان پر سلامتی کہیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایک مؤمن کی اولاد سے جو مومن ہوں گے۔ خواہ وہ نچلے ہی درجہ کے ہوں گے ان کو بھی اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا ۔ پھر کوئی یہ خیال نہ کرے کہ باپ جو اعلیٰ درجہ کا مؤمن ہو گا اس کو کچھ کم درجہ پر لے آیا جائے گا اور اولاد کو کچھ اوپر کر کے اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا بلکہ یہ ہوگا کہ نچلے درجہ والے کو بڑھا کر اوپر لے جایا جائے گا ۔ پھر اس بات کو اولاد تک ہی نہیں رکھا بلکہ یہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر خاوند بڑے درجہ پر ہوگا اور بیوی چھوٹے درجہ پر تو بیوی