انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 457

انوار العلوم جلد ۵ ۴۵۷ اصلاح نفس آئندہ زندگی میں کام آسکتی ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ کہ ہمارے ملک میں جن کو شاہ دولا کا چوپا بنایا جاتا ہے ان کے سروں پر بچپن میں ہی خول چڑھا دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ بڑے کا سر چھوٹا نہیں کیا جاسکتا۔ پس آپ لوگ بچوں کی خاص طور پر تربیت کریں اور ایسی تربیت کریں کہ ایمان میں آپ سے بڑھ جائیں ۔ آپ لوگوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ترکھان لکڑی کو تراش کر کوئی چیز بناتا ہے۔ مگر بچوں کی کی ایسی مثال ہے جیسے کسی چیز کو ڈھالا جاتا ہے اور ڈھالنے میں کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی مگر تراشنے میں کچھ نہ کچھ الگ کرنی پڑتی ہے۔ اور اس میں محنت بھی زیادہ صرف ہوتی ہے۔ پس تم اپنی اولاد کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے بعد ایک مضبوط جماعت پیدا ہو جائے اور جب تم فوت ہونے لگو تو تمہارے دل غمگین نہ ہوں بلکہ خوشی سے بھرے ہوئے ہوں کہ ہم ایسی جماعت کے شیر و دین کی امانت کر رہے ہیں جو اس کی حفاظت کرنے کی اہل ہے ۔ پس کبھی یہ خیال مت کرو کہ بچہ اگر کوئی بری حرکت کرتا ہے یا دین نہیں سیکھتا تو کوئی حرج نہیں بڑا ہو کر سیکھ لے گا ۔ سیکھنے کی عمر دراصل بچپن ہی ہے ۔ بہت لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ بچہ نے جھوٹ بولا تو کیا ہوا ۔ بڑا ہو کر چھوڑ دے گا ۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو بچہ ہونے کی حالت میں جھوٹ بولتا ہے وہ بوڑھا ہونے تک بھی اسے نہیں چھوڑے گا کیونکہ اسے تو جس طرح ڈھلنا تھا ڈھل چکا۔ دیکھو جن بچوں کے سر کو بچپن میں چھوٹا کر دیا جاتا ہے ان کے بڑے ہونے پر سر بڑا نہیں ہو جاتا ۔ اسی طرح جو بچپن میں جھوٹ بولتا ہے یا چوری کرتا ہے وہ بڑا ہو کر چوری چھوڑ نہیں دے گا بلکہ بڑا چور بن جائے گا سوائے اس کے جسے خدا تعالیٰ کاٹ کاٹ کر صاف کر دے ۔ پس اپنے بچوں کی تربیت کرو اور یہ مست خیال کرو کہ نمازیں پڑھنے میں انہیں تکلیف ہوتی ہے یا روزہ رکھنے میں وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ دین کے احکام پر ان سے عمل کراؤ ۔ اور اگر وہ کوئی بری بات کریں تو سمجھاؤ اور بے شک نرمی سے سمجھاؤ ۔ لیکن اگر نرمی سے نہ مانیں اور سختی کی ضرورت ہو تو سختی بھی کرو۔ دوسروں کو تبلیغ کرو دوسری قسیم روحانیت کی تبلیغ ہے۔ یہ بھی نہایت ضروری بات ہے اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک دوسروں کو تبلیغ نہ کر ہے۔ یہ خدا تعالیٰ نے مومن کا فرض رکھا ہے ۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ ، وآل عمران : ۱۱۱ )