انوارالعلوم (جلد 5) — Page 453
انوار العلوم جلد ۔ ۴۵۳ اصلاح نفس وہ زکوۃ دے ۔ اوراس رقم کو مرکز میں پنچاؤ جیسا کہ اس کے متعلق حکم ہے ۔ صدقہ دینا ہے۔ دوسری چیز صدقہ دینا ہے ۔ اس کے متعلق شریعت کا کوئی مقرر حکم نہیں ہے کہ اتنا دیا جائے ۔ ہاں یہ ہے کہ بچے ہوئے مال سے اپنے مقدور کے مطابق غریبوں پر خرچ کرو۔ ایمان کی ترقی اور نفس کی اصلاح کے لئے یہ بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر کوئی زکوۃ دیتا ہے تو اس کو ایمان حاصل ہو گیا۔ مگر اس کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو گا جب تک کہ صدقہ ہو بھی نہ دے ۔ اس بات کو خوب یاد رکھو کہ قرب الہی کے مدارج کی ترقی نوافل کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ فرائض ادا کرنا انسان کو صرف جہنم سے بچاتا ہے۔ مگر نوافل جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پھر فرضوں میں کئی کو تا ہیاں ہو جاتی ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے ساتھ سنتیں رکھ دی گئی ہیں اسی طرح زکوۃ میں جو کوتا ہیاں رہ جاتی ہیں ان کو صدقہ دور کر دیتا ہے ۔ چندہ دینا تیسری چیز چندہ ہے ۔ جو دین کے جہاد کے لیئے ہوتا ہے یہ جہاد خواہ تلوار سے ہو یا قلم اور کتب سے یہ بھی ضروری ہے کیونکہ زکوۃ اور صدقہ تو غرباء کو دیا جاتا ہے اس سے کتا بیں نہیں چھاپی جاسکتیں اور نہ وہ مبلغوں کو دیا جا سکتا ہے ۔ زکواۃ میں حکمت یہ تینوں چیزیں یہ مینوں چیزیں ضروری ہیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک میں حکم حکمت ہے۔ جس رنگ میں رکھی گئی ہے اس میں تو یہ حکمت ہے کہ اگر یونی صدقہ زكوة حس را کا حکم دیا دیا جاتا رقم اور وقت مقرر نہ ہوتا تو بہت لوگ نہ دیتے ۔ اس لئے تھوڑے سے تھوڑا چندہ شریعت نے خود مقرر کر دیا ہے کہ اس قدر اپنے مال میں سے ضرور دیا جائے ۔ اس سے زائد جو ۔ دے وہ انعام کا مستحق سمجھا جائے اور جو اس حد تک بھی نہ دے وہ مجرم ہوگا۔ پس تم اس حد کو پورا کرو۔ دوسرا اس کے مقرر کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ بعض لوگوں کو جو ضروریات آپڑتی ہیں ان کو فرداً فرداً پورا نہیں کیا جا سکتا ۔ مثلاً ایک شخص غریب ہے اس کو لاکھ روپیہ کی ضرورت آپڑی ہے۔ کوئی کے کہ غریب اور پھر لاکھ روپیہ کی ضرورت کا کیا مطلب ؟ مگر ہوتی ہے ۔ مثلاً ایک تاجر ہے اس کو کاروبار میں گھاٹا پڑ گیا ہے اس کے چلانے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے ۔ ایسے لوگوں کی بھی زکوۃ سے مدد کی جا سکتی ہے۔ تو زکوۃ سے غرباء کو بھی دیا جاتا ہے تاکہ اپنی ضروریات پورا کریں ۔ مگران کو بھی دیا جاتا ہے جنہیں کاروبار چلانے کے لئے ضرورت ہو اور پیشہ ور ہوں لیس زکوۃ کے فنڈ