انوارالعلوم (جلد 5) — Page 27
انوار العلوم جلد ۲۷ صداقت احمدیت ८۔ الحمدة ونصلى على رسول الكيب صداقت احمدیت د تقریر حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی فرموده ۱۹ ز فروری ۱۹۲۰ء بمقام لاہور ) احترام انبیاء علیہم السلام دنیا میں بہت سے انبیاء گزرے ہیں اور اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے اور بزرگ تھے اور اس کی طرف سے بھیجے ہوتے تھے ہمارے سردار ہیں۔ ہم ان کا ادب اور احترام کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ توفیق دے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کے علاوہ ان کو بھی درودوں میں شامل کر لیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مالک اور خالق کے پیارے ہیں تو ہمارے بھی پیارے ہیں۔ ان کو ہمارے مالک اور خالق خدا نے عزت دی ہے اور جن کو اس نے عزت دی ہے ان کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے ۔ پس ہم تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام کرتے ہیں۔ خواہ ان کا نام ہمیں قرآن کریم کے ذریعہ معلوم ہوا یا قرآن نے ان کا نام نہیں لیا۔ قرآن کے اس مقرر کردہ اصول کے ماتحت کہ وَإِنْ مِنْ اُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ( فاطر : ۲۵ ) کوئی امت ایسی نہیں گذری جس میں نذیر نہ آیا ہو ۔ ہم سب کی عزت کرتے ہیں ، اور جہاں جہاں کوئی نبی آیا ہے اس کا احترام کرتے ہیں ۔ فضیلت رسول الله برحملہ انبیاین با وجودا اقرار ہے ہم یقین کر تے ہیںکہ ان کے رکتے سب نبیوں اور سب انسانوں کے جو آر) تک پیدا ہوئے یا آئندہ پیدا ہوں گے سردار اور ان سے افضل اور اعلیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب سے دنیا کا آغا نہ ہوا ہے اس وقت سے لے کر کیسی ماں نے کوئی ایسا بچہ نہیں جنا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے اور کسی ذاکر نے خدا تعالیٰ کا اتنا ذکر اپنی زبان پر جاری نہیں کیا کہ اس مقام پر قدم رکھ سکے جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم تھا۔ خواہ کوئی نبی ہو یا غیر نبی ، رسول ہو یا