انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 446

N انوار العلوم جلد ۵ الرندة اصلاح نفس جاتا بھی فرمایا خودن جاتا ہے کیا اس کو بھی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا تم خود نہ لو بلکہ اشاعت اسلام کے لئے دے دو۔ ایک شخص نے حضرت صاحب کی وفات پر کہا۔ واہ مرزیا ! مرگیوں پر سود جائز ناہی کیتا۔ تو شریعت نے جو حکم دیا ہے اسے کوئی بدل کس طرح سکتا ہے ؟ اگر کوئی شریعت کے خلاف نے جو دیا ہے کس ہے ؟ اگر فتوی دے بھی دے تو بھی شریعت کا حکم نہیں چھوڑا جا سکتا ہیں ہمیں روزہ کے متعلق خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں اس کی قدر کرو اور اس پر عمل کرو۔ علم حاصل کرو تیسری بات علم کا سیکھنا ہے جو من بھی جاہل نہیں ہوسکتا۔ - ا - ب - ت پڑھا ہوا نہ ہو تو ہو۔ مگر علم سے جاہل نہیں ہو سکتا ۔ کیا حضرت صاحب کتابی علم اس زمانہ کے مولویوں سے زیادہ جانتے تھے ؟ مولوی تو ان کے متعلق یہی کہتے تھے کہ منشی ہے لکھنا جانتا ہے۔ علم اس کے پاس کہاں ہے ؟ مگر کیا یہ درست نہیں کہ آپ نے ہر علمی مقابلہ میں ان علم جاننے والوں کو شکست دی ؟ پھر یہی نمونہ حضرت مولوی صاحب کے زمانہ میں تھا اور پھر اب بھی یہی ہے ۔ میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں ۔ مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علم کا مدعی آجائے اور ایسے علم کا مدعی آجائے جس کا میں نے نام بھی نہ سنا ہو اور اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پیش کرے اور میں اسے لاجواب نہ کر دوں تو جو اس کا جی چاہیے کہیے ۔ ضرورت کے وقت ہر علم خدا مجھے سکھاتا ہے اور کوئی شخص نہیں ہے جو مقابلہ میں ٹھہر سکے ۔ ابھی سورۃ الناس کی تفسیر جو میں نے سنائی ہے۔ یہ الہام ہی کے ذریعہ مجھے بتائی گئی ہے ۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ اس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے ۔ میں نے بہت غور کیا مگر یہ بات میری سمجھ میں نہ آتی تھی کہ کس طرح اس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے ؟ لیکن اسی جگہ جب میں نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو سجدہ میں جاتے ہوئے ایک سیکنڈ میں ساری تفسیر اس طرح میرے قلب میں ملا دی گئی جس طرح شکر دودھ میں ملا دی جاتی ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ اس میں سے بہت مختصر طور پر بیان کیا ہے ۔ ورنہ دنیا کے سارے موجودہ مفاسد کے متعلق اس کی نہایت لطیف تفسیر بیان کی جا سکتی ہے ۔ پس تم دین کا علم حاصل کرو۔ بے شک دنیا کا علم بھی ضروری ہے مگر دین کا اس کے ساتھ ضرور ہو۔ اب جو لوگ دنیا کا علم حاصل کر لیتے ہیں وہ اپنا حق سمجھ لیتے ہیں کہ مذہبی مسائل پر بھی بولیں لیکن یہ غلط بات ہے۔ تم ظاہری علوم بھی پڑھو مگر ان کے ساتھ دین کا علم بھی ضرور سیکھو اور اس قدر سیکھو کہ خدا کی طرف سے باتیں سمجھنے کی اہلیت تم میں پیدا ہو جائے ۔