انوارالعلوم (جلد 5) — Page 443
انوار العلوم جلد ۵ کرنے کے متعلق ہے ۴۴۴۳ اصلاح نفس اول حکم نماز کا ہے ۔ یہ اسلام کا بھی پہلا حکم ہے اور میں نے بھی نماز با جماعت پڑھو اس کو پہلے ہی رکھا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملی باتوں کی جان قرار دیا ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے جس کی نماز نہیں اس کا دین نہیں ۔ مگر میں افسوس سے کہوں گا کہ آپ میں سے بہت لوگ ہیں جو اس کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگ تو احمدیوں میں بہت ہی کم ہوں گے جو بالکل نماز پڑھتے ہی نہ ہوں ۔ مگر ایسے ہیں جو گنڈے دار نماز پڑھتے ہیں ۔ ایک آدھ نماز پڑھ لیں گے باقی نہیں پڑھیں گے ۔ یا شیعوں کی طرح جمع کر کے نمازیں پڑھ لیں گے۔ پھر ایسے ہیں جو گھر میں نماز پڑھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں نماز ہوگئی۔ لیکن کیا آپ لوگوں میں سے جو لوگ دفتروں میں ملازم ہیں وہ اس طرح کر سکتے ہیں کہ دفتر نہ جائیں ؟ اور گھر میں ہی رجسٹرے کر بیٹھ رہیں کہ کام ہی کرنا ہے وہ گھر میں کر لیا ہے ۔ اگر اس طرح کوئی کرے تو اس کی ملازمت قائم نہ رہے گی ۔ میں پوچھتا ہوں اگر دفتر کا کام گھرمیں بیٹھ کر کرنے سے منظور نہیں کیا جاتا تو نماز گھر میں پڑھ لینے سے کیونکر منظور ہو سکتی ہے؟ نماز تو با جماعت ہی ہوگی ۔ بے شک مجبوریوں کو مد نظر رکھ کر گھر میں نماز پڑھ لینے کو جائز کر دیا گیا ہے اور اس حالت میں الگ بھی نماز پڑھ لی جاسکتی ہے ۔ مثلاً اگر دفتر میں کام کرتے ہوئے نماز کا وقت آجائے تو بے شک وہاں پڑھ لو۔ مگر جہاں کوئی مجبوری نہیں اس حالت کے متعلق میرا یہی عقیدہ ہے کہ نماز نہیں ہوتی ۔ میں چار سال سے نماز با جماعت پڑھنے کے لئے کہ رہا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں ۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ بات جو پورے وثوق ولا اور پورے یقین کے ساتھ میں سمجھتا ہوں اس کے متعلق مرتے دم تک مجھی میرا خ بدلے ۔ سچی اور پکی بات یہ ہے کہ جو شخص مسجد میں جاسکتا ہے مگر نہیں جاتا اور گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ وہ قیامت کے دن جا کر دیکھے گا کہ کوئی نماز اسے نہیں ملے گی اور کوئی ملے گی۔ وہ حیران ہو کر کہے گا کہ میری باقی نمازیں کہاں گئیں ؟ مگر اسے کہا جائے گا کہ باقی نمازیں تم نے پڑھیں کب تھیں ؟ تو ایسے لوگ اس وقت حیران ہوں گے ۔ مگر میں انہیں اب بتاتا ہوں کہ ان کی وہ نمازیں جو بغیر کسی عذر کے وہ جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے بلکہ گھروں میں پڑھتے ہیں نہیں ہوتیں اور اس وقت ان کا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا اور نہ قبول کیا جائے گا خدا کے حضور ان کی نمازیں نہیں لکھی جاتیں ۔ صرف انہی کی لکھی جاتی ہیں جو با جماعت نماز پڑھتے ہیں سوائے اس کے کہ مجبور ہوں مسجد میں نہ جا سکتے ہوں ۔ مثلاً کوئی بیمار ہو یا کہیں ملازم ہو۔ میرا خیال