انوارالعلوم (جلد 5) — Page 439
انوار العلوم جلد ۵ ۴۳۹ اصلاح نفس اور کمزور کر دیتی ہے اور طاقت زوال کی طرف آجاتی ہے۔ حقہ صحت کے لئے سخت مضر ہے ۔ لوگوں نے پہلے یورپ والوں کو تمباکو استعمال کرتے دیکھا اور پھر حقہ کے رنگ میں اس کی ایجاد کر لی ۔ اور یہ اس قدر پھیل گیا ہے کہ حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ مکہ کی کوئی شادی ایسی نہیں ہوتی جس میں ہر ایک کے لئے ایک حقہ نہ رکھا جاتا ہو۔ پھر ہمارے ملک میں بھی پھیلا ہوا ہے اور کئی رنگ میں پھیلا ہوا ہے ۔ ایک سفر میں ایک پٹھان ہمارے ساتھ تھا۔ ایک جگہ اس کی نسوار کی ڈبی گر گئی ۔ وہ ایسا پریشان ہوا کہ راستہ میں جو شخص ملتا ۔ بڑی لجاجت سے اس سے پوچھتا کہ تمہارے پاس نسوار ہے ؟ حالانکہ پٹھان اور بحاجت کیا ؟ مگر وہ ایسا گھبرایا ہوا پھرتا کہ اگر کوئی اسے مار بھی لیتا اور نسوار دے دیتا تو شاید وہ اسے یہی کہتا کہ میں تمہارا غلام ہوں ۔ پھر ایک سخت گندے شہر میں پہنچ کر جب ا کہتاکہ میں ، میں کر اس کو نسوار پہنچ مل گئی تو کہنے لگا اس شہر کو گندہ کیوں کہا جاتا ہے ؟ اس سے تو مجھے نسوار مل گئی ہے اس کے نام کے ساتھ تو شریف کا لفظ لگانا چاہئے ۔ اس کے نشہ کی عادت ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ بعض دفعہ لوگ اس کی ایسی عادت ڈال لیتے ہیں کہ اس کا چھوڑنا طبی طور پر بھی خطرناک ہو جاتا ہے اور بڑی احتیاط چاہتا ہے ۔ ایک دوست نے جب نسوار چھوڑی تو اس کے حلق میں زخم ہو گیا ۔ پھر یہ اس لئے بھی بری ہے کہ انسان ہو کر ایسی بے جان چیزوں کی غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ ایک انسان درختوں کے پتے کھا کر پیٹ بھر سکتا ہے مگر نشوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور ان کی بدترین غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ یہاں ایک ایسا گندہ اسلام کا دشمن تھا جو فخریہ کہا کرتا تھا کہ میں بچپن میں ہی سمجھا کرتا تھا کہ کبھی جھکنا کبھی سرینا یعنی نماز پڑھنا ایک فضول بات ہے اور اب تو میں دانا اور عقلمند ہوں اور ان حرکات جھکنا بھی سرینا یعنی نماز ہے اور اب کی لغویت کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ اس کے پاس کئی لوگ حقہ پینے کے لئے جا بیٹھتے ۔ وہ کی نوعیت کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود کو بُرا بھلا کہتا رہتا اور وہ سر جھکائے سنتے رہتے ۔ اس سے بدترین غلامی اور کیا ہوگی ۔ نشہ والے دوسروں کو نشہ میں کیوں شریک کرتے ہیں؟ عام طور پر دکھا گیا ہے کہ نشے والے دوسروں کو بھی اس چیز میں شریک کرنا چاہتے ہیں جو خود استعمال کرتے ہیں۔ ایک معزز دوست کے ہاں ایک دفعہ ان کے ایک بھائی صاحب ملنے کے لئے آئے ۔ ایک کمرہ میں ان کا بچہ اور چند اور احمدی بیٹھے