انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 437

انوار العلوم جلد ۵ ٤٣٧ اصلاح نفس پھر درشت کلامی سے گالیوں پر لوگ اُتر آتے ہیں بعض لوگ نمازیں پڑھیں گے، دوسرے فرائض ادا کریں گے ، دین کے کاموں میں حصہ لیں گے ، لیکن گندی سے گندی ماں بہن کی گالیاں بھی دیں گے اور فساد پھیلائیں گے ۔ اس طرح اپنے آپ کو تباہ کریں گے اور دوسروں کو اشتعال دلا کر ان کی بھی عاقبت خراب کریں گے تمہیں چاہتے کہ اس تباہ کن فعل سے بچھ اور نرمی کی عادت ڈالو تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے ۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالی تم پر بھی درشتی کرے ۔ درشتی اور سختی جوش اور غصہ کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ مگر تمہارے لئے تو جوش اور غصہ نکالنے کے لئے کافی جگہ ہے۔ تم اس کو محفوظ رکھو اور ضائع نہ کرو جس کو ایک بڑا سفر در پیش ہوتا ہے وہ اپنی روٹیاں کتوں کے آگے نہیں ڈالتا بلکہ ضرورت کے لیے محفوظ رکھتا ہے۔ تمہارے آگے بھی بہت بڑا سفر ہے تمہیں ابھی بہت سی لڑائیاں لڑنی ہیں ۔ تمہیں جوش اور طاقت کی ضرورت ہے ۔ پس تم اس کو اس وقت کے لئے محفوظ رکھو جب تمہیں کفر سے لڑائی کرنی پڑے ۔ ورنہ اگر تم نے یونسی جوش ضائع کر دیا تو یاد رکھو وقت پر کچھ نہ کر سکو گے۔ کیونکہ جس انجن کی بھاپ نکل جاتی ہے وہ گاڑیاں نہیں کھینچ سکتا گاڑیاں وہی انجن کھینچتا ہے جس کے اندر بھاپ بند رہتی ہے۔ پس تم غصہ اور جوش کے دبانے کے عادی ہو تا کہ نہ صرف خود ہی چلو بلکہ اوروں کو بھی کھینچ کر لے جاسکو۔ دیکھو نر می ایسی ضروری چیز ہے کہ خدا تعالیٰ نبی کو کہتا ہے ۔ قُولَا لَهُ قَوْلًا لَيْنَا رطه : ۴۵) فرعون تمہیں گالیاں دے گا۔ تم پر سختی کرے گا ۔ مگر تم اس سے نرم نرم باتیں کرنا ۔ یہ انہیں اس لئے کہا گیا کہ وہ فرعون کے سامنے بطور نمونہ تھے ۔ اگر وہی سختی کرتے اور درشتی سے پیش آتے تو وہ کہتا جس انسان کی اپنی یہ حالت ہے وہ مجھے کیا فائدہ دے سکتا ہے ۔ مگر ان کی نرمی کو دیکھ کر فرعون گھرا گیا۔ کیونکہ وہ سختی کرتا اور گالیاں دیتا تھا مگر حضرت موسی ہنس کر نرمی سے جواب دے دیتے اس ہے وہ گھبرا گیا کہ کوئی طاقت اور قوت ہے جس نے اسے سہارا دیا ہوا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ سختی اور درشتی نے اس پر ذرا بھی اثر نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ بجائے اس کے کہ سختی کی وجہ سے فرعون کا رعب حضرت مولی پر پڑتا۔ یہ ہوا کہ ان کی نرمی کی وجہ سے فرعون پر ان کا رعب پڑ گیا ۔ اکثر لوگ اپنا رعب داب جمانے کے لئے سختی کرتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقی رعب سختی سے نہیں بلکہ نرمی سے پڑتا ہے۔ اس لئے نرمی سے ہی کام لینا چاہئے ۔