انوارالعلوم (جلد 5) — Page 431
انوار العلوم ۵ ♡ ۴۳۱ اصلاح نفس کرنا چھوڑ بیٹھے گا۔ اس سے ایک طرف تو بدظنی کرنے والا ہلاک ہو گا دوسری طرف جس کی نسبت بدانی کی جائے گی وہ کام چھوڑ بیٹھے گا اور اس طرح سلسلہ کا کام خراب ہو گا۔ سو اسے عزیزو! اس کو بالکل چھوڑ دو ۔ کئی لوگ جو ملنے آتے ہیں ایک دوسرے کے متعلق باتیں سناتے ہیں جن کی بنیاد محض بدنی پر ہوتی ہے اور جن میں محض قیاس اور خیال سے کام لیا جاتا ہے ۔ یہ لوگ ظاہرہ باتوں کی طرف میں محض قبہ تو توجہ نہیں کرتے ۔ دیکھتے ہیں فلاں شخص علی الاعلان نمازوں میں نہیں آتا اس کو کچھ نہیں کہتے دیکھتے ہیں فلاں علی الاعلان عورتوں پر ظلم کرتا ہے اس کو نہیں سمجھاتے ۔ اور کئی قسم کے عیب ہیں پرسم جو لوگ علی الاعلان کرتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ۔ مگر بدظنی کرتے ہوئے پوشیدہ سے پوشیدہ عیبوں کو بیان کریں گے ۔ یہ ایک سخت کمزوری اور بُرا فعل ہے ۔ اس سے بچنا چاہئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَا كُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمُه الحجرات : (۱۳ اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو بہت سے گمان جو دل میں آتے ہیں ان سے بچو اور زیادہ تجسس نہ کیا کرو ۔ واقعات کو دیکھا کرو۔ اور باطنی کو چھوڑ دور کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ ؟ پس اس سے الگ رہو۔ اور اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے۔ اہے باطنی کے خطر ناک یا کاری کا ہو یا ان کا نہیں کرتے وہ اسی حد تک نہیں رہتا کہ اپنے بھائی پر بدظنی کر کے ٹھر جائے بلکہ وہ ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ آخر خدا تعالیٰ پر بھی بدظنی کرتا ہے جو شخص اپنے بھائی پر بدظنی کرتا ہے اس کا دوسرا قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ باپ پر بھی بدظنی کرتا ہے۔ اور جو باپ پر کرتا ہے وہ رسول پر کرتا ہے اور جو رسول پر کرتا ہے وہ خدا پر کرتا ہے ۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انہیں کیا جائے کہ اپنے بھائی پر باطنی نہ کرو تو کہتے ہیں کہ وہ ہمارا پیر ہے ؟ مگر یاد رکھو جو بھائی پر بدظنی کرتا ہے جب اس کو اس کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کا دل اسی پر تسلی نہیں پاتا بلکہ وہ اور آگے بڑھتا ہے اور ہوتے ہوتے امام وقت یا رسول کو اپنا نشانہ بنا لیتا ہے اور پھر اس پر بھی صبر نہیں کرتا ۔ خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے ۔ قرآن کریم میں