انوارالعلوم (جلد 5) — Page 428
انوار العلوم جلد ۵ ۴۲۸ اصلاح نفس مؤمن کے دو کام قرآن نے مومن کا کسی کام مقر نہیں فرمایا کہ وہ آپ اُڑے بلکہ یہ کام مقرر کیا ہے کہ وہ آپ بھی اُڑے اور دوسروں کو بھی اُڑا ہے۔ قرآن نے تمہیں چڑیا اور طوطے کی طرح نہیں بنایا بلکہ ایروپلین بنایا ہے تاکہ آپ بھی اڑو اور دوسروں کو بھی اڑاو۔ تمام قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے ۔ غرض قرآن نے مومن کے دو کام بتائے ہیں کہ وہ خود بھی پرندہ بن جائے یعنی خود متقی اور پرہیز گار بن جائے اور دوسروں کو بھی بنائے۔ لوگوں کو کھینچ کر اوپر لے آئے اور خدا سے ملائے ۔ اور یہ لازمی نتیجہ ہے پہلی بات کا ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ پر وہی عاشق ہوگا جسے یقین ہوگا کہ خدا تعالیٰ میں تمام خوبیاں ہیں اور ہم دیکھتے ہیں یہ قدرتی بات ہے کہ جن کو کسی چیز میں خوبیاں معلوم ہوتی ہیں وہ دوسروں کو وہ خوبیاں دکھاتے ہیں، کوئی تو بد نیتی ہے کہ ان کو دوسروں پر فخر حاصل ہو ۔ اور کوئی نیک نیتی ہے کہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے ۔ دیکھو قرآن کریم ادھر تو یہ کہتا ہے کہ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَ قُتِكُمُ بِالْمَنِ وَ الْأَذَى كَا تَذِى يُنْفِقُ مَا لَهُ رِئَاءَ النَّاسِ (البقرة : ٢٩٥) ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو دریاء کے طور پر مال خرچ کرتے ہیں۔ مگر ادھر کہتا ہے وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ (الضحی (۱۳) کہ لوگوں کو بتا بتا کر خدا کی نعمتوں سے آگاہ کرو۔ یہ ریاء نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ لوگ بھی ان کو دیکھ کر ان کے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ غرض ہر قسم کا اظہار ریاء نہیں ہوتا بعض حالات میں ایک بات کا اظہار ریاء ہو جاتا ہے مگر دوسرے حالات میں اسی امر کا اظہار ریاء نہیں ہوتا مثلاً اگر ایک شخص اچھے اچھے کپڑے اس لئے پہن کر لوگوں میں جاتا ہے کہ وہ اسے بڑا مالدار سمجھیں تو یہ ریاد صلی ہے لیکن اگر وہی شخص عید کے دن یا جمعہ کے دن عمدہ لباس نہین کر نکلے تا رسول تا رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہو ۔ یا مثلاً اگر کہیں بخار پھیلا ہو اور کسی کے پاس کونین ہو اور وہ لوگوں کو بتائے کہ میرے پاس کونین ہے تو یہ دریاء نہیں ہوگا ۔ اور کوئی نہیں کہے گا کہ یہ اپنی عقلمندی جتا رہا ہے کہ میں نے پہلے سے ہی کو نین رکھی ہوئی تھی ۔ کیونکہ اس کا اس امر کو ظاہر کرنا ضروری ہو گا تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچے ۔ تو مؤمن کا فرض اپنا ہی کام کرنا نہیں بلکہ دوسروں کا بھی کرنا ہے ۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے ان دونوں اقسام کی نیکیوں میں سے کتنا حصہ لیا ہے ؟ پہلی باتیں کیوں دوہرائی جاتی ہیں ؟ ان باتوں میں سے جو اصلاح نفس کے متعلق ہیں ای تی اور جو دوسروں کی اصلاح کے لئے ہیں بعض ایسی ہیں کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اور بعض نئی ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ پرانی باتیں پھر ان کو