انوارالعلوم (جلد 5) — Page 413
انوار العلوم جلد ۵ ۴۱۳ اصلاح نفس کہتے ہیں ایک امیر تھا۔ اس کے محلہ میں ایک بزرگ رہتے تھے اس امیر کے ہاں ساری رات گانا بجانا ہوتا رہتا جس سے محلہ والے بہت تنگ آگئے۔ لیکن چونکہ وہ بڑا آدمی تھا اور بادشاہ سے اس کا تعلق تھا اس لئے کوئی اسے کچھ کہ نہیں سکتا تھا۔ ایک دن اس بزرگ نے اسے کہا کہ آپ ساری رات گاتے بجاتے رہتے ہیں کسی وقت بند بھی کیا کرو کہ ہمیں آرام ملے ۔ اس نے کہا تو کون ہے مجھے کہنے والا ؟ اس بزرگ نے کہا میں تو کوئی نہیں ۔ سارے محلہ والے کہتے ہیں جو کہ بہت تنگ آگئے ہیں۔ اس نے کہا میں نہیں رک سکتا ۔ بزرگ نے کہا اگر تم نہیں رکھتے تو پھر ہم جبراً روکیں گے۔ اس نے کہا ئیں بادشاہ کی فوج لے آؤں گا پھر کون ہے جو میرا مقابلہ کر سکے ؟ بزرگ نے کہا ہم فوج کا بھی مقابلہ کریں گے ۔ اس نے کہا کس طرح ؟ بزرگ نے کہا سهام اللیل کے ذریعہ یعنی رات کے تیروں کے ساتھ ۔ اس بات کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہا کہ میں آئندہ آپ کو تکلیف نہیں دوں گا ۔ آپ معاف کریں ۔ تو رات کے تیروں اور تلواروں کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ رسول کریم صل اللہ علیہ سلم کے مقابلہ میں بھی کفارہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم تلوار سے مقابلہ کریں گے ۔ اس کے پاس چونکہ تلوار نہیں اس لئے ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گا ۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ تلوار جو رات کو چلائی جاتی ہے وہ ایسی ہے کہ اس کے حملہ سے کوئی بیچ نہیں سکتا۔ کیونکہ اسی حملہ سے بچاؤ ہو سکتا ہے جو نظر آتا ہے جو نظر نہ آئے اس سے بچنا نا ممکن ہوتا ہے ۔ جو آئے اس سے بچانا سو ہمارے پاس دعا کا تیر کمان ہے اور اسی کو ہم چلائیں گے اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود خدا کی رؤیا کا بقیہ حصہ بھی پورا کر دے گا اور ہمارے ہاتھ میں زار روس کا سوٹا دے دے گا ۔ لیکن چونکہ رؤیا کے پورا کرنے کے لئے کوشش کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس لئے میں دوستوں کو کہوں گا کہ وہ اپنی دعاؤں میں اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ اس کشت کو پورا کرے تاکہ زرا بر روس کا سوٹا ہمارے ہاتھ میں آجائے ۔ س سال تبلیغ میں کمی رہی یہ باتیں جومیں نے آپ لوگوں کو خوشی کی نشانی ہیں ان کے ساتھ ہی ایک رینج کی بات بھی سناتا ہوں جو میرے لئے بہت ہی تکلیف کا موجب ہوئی ہے ۔ آپ لوگوں نے اس سال بہت مال دیئے اور اس قدر دیتے کہ مخالف اخبار نویس حیران ہو گئے اور لکھا کہ نئے سلسلوں کا یہی حال ہوتا ہے جماعت احمد یہ چونکہ نیا سلسلہ ہے اس لئے اس وقت اس میں بھی وہی جوش ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مسلمانوں