انوارالعلوم (جلد 5) — Page 406
انوار العلوم جلد ۵ ۴۰۶ اصلاح نفس يَومَ الْقِيمَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَه فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ : فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ اخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أَوْ ذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَ قُتِلُو الْأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمُ سَيَاتِهِمْ وَلَا دُخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ ، دال عمران : ۱۹۱ تا ۱۹۶) حضرت مسیح موعود کے بوئے ہوئے رینج کا درخت بن گیا سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے اس بیج کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دن نہایت سختی اور شدت کے زمانہ میں لوگوں کی خطرناک مخالفت کے باوجود ایسی حالت میں کہ لوگوں کی صرف دنیاوی سامانوں پر ہی نظر تھی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے بویا تھا بار آور کیا اور اس سے ایسا درخت پیدا کر دیا ہے جو روز بروز اس کے فضل اور رحم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور بڑھتا جائے گا۔ یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں ناکامی کے غار سے نکال کر کامیابی کے کے راستہ پر چلا دیا ہے ۔ آج سے تیس سال قبل جب حضرت صاحب نے دعوی کیا تھا کون شخص تھا جو خیال میں بھی لا سکتا تھا کہ اس کی ایک عظیم جماعت قائم ہو جائے گی ؟ مگر خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں اور ہرزمانہ میں ہی ہوتا رہا ہے کہ وہ پتھر جس کو معماروں نے رد کر دیا خدا نے اس کو کونہ کا پتھر قرار دیا اور اسی پر عظیم الشان عمارت کی بنیاد رکھی۔ ایسا ہی اس زمانہ میں ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعود پر قسم قسم کے حملے کئے گئے ، آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں ، رنگا رنگ کی ایذائیں پہنچائی گئیں مگر باوجود مخالفوں کی شرارتوں کے کے اور اور باوجود دشمنوں کی ایذاء رسانیوں کے اور اور باوجود باوجود معاندوں کی کی تکلیفوں کے کے پھر بھی خدا نے آپ کا سلسلہ قائم کیا اور قائم کرتا رہے گا اس وقت تک کہ دنیا اقرار نہ کرے کہ خدا ہے اور ایسا خدا ہے جو کمزور سے کمزور انسان سے بھی کام لیتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنا جلال اور قدرت دکھاتا ہے۔ سے ظلمت سے بچانے پر خدا کا شکر پھر میں اللہتعالی کا شکر تیج اور حمیدہ اس لئے کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل سے ہمیں اس ظلمت اور تاریکی سے بچایا جس میں باقی دنیا مبتلا ہے ۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک