انوارالعلوم (جلد 5) — Page 391
انوار العلوم جلد ۵ ۳۹۱ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اسبات کی امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی ایک عام مجلس علماء اسلام کی فیصلہ کردے گی کہ غلامی کی طرح کثرت ازدواج بھی اسلامی قوانین کے خلاف ہے ۔ ان حوالہ جات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سید امیر علی صاحب (۱) کثرت ازدواج کو بلا شرط برا نہیں کہتے بلکہ بعض حالتوں میں اس کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ (۲) اگر وہ ایک بیوی پر اکتفاء کرنے کو مہذب سوسائٹی میں ضروری سمجھتے ہیں اور کثرت ازدواج سے اس حکم کو اچھا سمجھتے ہیں تو اس سے کو ؟ سلام کی کی تعلیم کو ناقص نہیں قرار دیتے بلکہ ان کے نزدیک یہ ھی اسلام ہی کی عظیم ہے کہ کثرت ازدواج اصل میں بڑی ہے فقط خاص حالات میں جائز ہے ہیں ان حوالہ جات کی موجودگی میں پروفیسر صاحب کیونکر کہ سکتے ہیں کہ سید امیر علی صاحب کے نزدیک اسلام کی تعلیم کے خلاف کثرت ازدواج زنا کاری ہے۔ وہ نہ تو کثرت ازدواج کو ہر حالت میں برا کہتے ہیں اور نہ ایک بیوی پر اکتفاء کرنے کو قرآن کریم کی تعلیم سے جدا ہو کر ستحسن قرار دیتے ہیں۔ ان کی تحریر کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم ناقص ہے اور ہر زمانہ کے لئے نہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے ہر زمانہ کے مطابق حال تعلیم دی ہے اور یہ دونوں مضمون ایک دوسرے کے ایسے ہی مخالف میں جیسا کہ نور اور حکمت پھر معلوم نہیں کہ پروفیسر صاحب نے دونوں باتوں کو ایک کیونکر سمجھ لیا۔ تعجب ہے کہ پروفیسر صاحب کو سید امیر علی صاحب کی اس تحریر میں کہ اسلام نے مختلف حالات کے مناسب مختلف احکام دیتے ہیں یہ بات تو نظر آگئی کہ وہ اسلام کے بعض احکام کو ناقص سمجھتے ہیں لیکن ان کا خیال ادھر نہیں گیا کہ انہوں نے خود ایسی ہی بات اگر یہ سماج کی نسبت اپنے مضمون میں لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آریہ گزٹ نے اگر یہ لکھ دیا کہ گرے ہوئے لوگ و دھوا بیاہ کر سکتے ہیں تو اس سے آریہ سماج کے کسی عقیدہ کی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی۔ بھگوان دیا نند نے بھی شودروں کے لئے و دھوا بیاہ جائز قرار دیا ہے ۔ اب وہ بتائیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اگر پنڈت دیا نند صاحب لکھ دیں کہ و دھوا بیاه بعض قوموں کے لئے جائز ہے اور بعض کے لئے نہیں تو انس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پنڈت دیا نند صاحب کے نزدیک دیدی تعلیم میں نقص ہے لیکن اگر ستیدا میر علی صاحب یہ تحریریں کہ اسلام نے مختلف حالات کے مناسب حال تعلیم دیگر اپنی تعلیم اپنی تعلیم کو ہر حالت اور ہر زمانہ کے لئے مکمل کر دیا ہے تب سید امیر علی صاحب کی یہ تحریر ان کے اسلام پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اسلام کے بعض احکام کو ناقص قرار دیتے ہیں ۔ ببین تفاوت راه از کجا است تا بکجا