انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 386

انوار العلوم جلد ۵ ۳۸۶ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب وقت جس میں وہ ایک اہم اور وسیع الاثر مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہو۔ رام دیو صاحب فرماتے ہیں کہ سید امیر عسلی فرشتوں کے متعلق حوالہ بھی غلط پیش کیا گیا مارو اور اقوال دوسر حوالہ فرشتوں کے متعلق ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قرآن میں فرشتوں کا جو ذکر ہے وہ صرف محمد صاحب کا و ہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی ورنہ فرشتے در حقیقت کوئی چیز نہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ اس حوالہ کے بیان کرنے میں بھی پروفیسر صاحب نے غلطی کی ہے اور جلد بازی سے کام لیا ہے۔ سید امیر علی صاحب نے اپنی کتاب سپرٹ آف اسلام میں ہرگز نہیں لکھا کہ فرشتوں کے متعلق جو کچھ قرآن میں ہے وہ صرف محمد صاحب کا وہم تھا اور نہ یہ لکھا ہے کہ فرشتے در حقیقت کوئی چیز نہیں ہیں خود پروفسیر صاحب نے جو فقرہ سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کیا ہے وہی اپنی غلطی کا آپ مظہر ہے ۔ پروفیسر صاحب سید امیر علی صاحب کی طرف یہ فقرہ منسوب کرتے ہیں کہ فرشتے محمد صاحب کا وہم صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی کا نتیجہ ہیں۔ اب ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہم اور شاعرانہ نازک خیالی دو مخالفت باتیں ہیں۔ کیونکہ وہم کسی ایسی چیز کے خیال کو کہتے ہیں جس کا وجود نہ پایا جائے لیکن کوئی شخص غلطی سے اس کے وجود کا قائل ہو۔ اور شاعرانہ نازک خیالی اُسے کہتے ہیں کہ ایک چیز تو موجود ہو لیکن اس ب چیز تو کا ذکر استعارہ اور مجاز میں نظم یا کلام کو خوبصورت بنانے کے لئے کر دیا جائے اور یہ دونوں باتیں ایسی متضاد ہیں کہ جس چیز کو ہم وہم کہیں اُسے شاعرانہ نازک خیالی نہیں کہ سکتے اور جس کو شاعرانہ نازک خیالی کہیں اُسے وہم نہیں کہ سکتے۔ وہ یہ ہے کہ ایک چیز موجود نہیں اور ہم اس کو موجود خیال کرتے ہیں اور شاعرانہ نازک خیالی یہ ہے کہ ہمیں علم تو ہے کہ فلاں بات کسی طرح ہے لیکن کلام کو موثر بنانے کے لئے ہم ایک خاص رنگ میں اُسے بیان کر دیتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص چھلا وہ کے وجود کا قائل ہو جس کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ کبھی آدمی بن جاتا ہے بھی گھوڑا بھی بکرا بھی نیولا بھی کوئی بے جان سے غرض منٹ منٹ میں وہ کئی ہی ہی شکلیں بدل لیتا ہے ۔ اس شخص کے اس خیال کو تو ہم وہم کہیں گے کیونکہ جو شے واقع میں موجود نہیں ہے اُسے بلا کسی ثبوت کے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اسی طرح ہے لیکن ایک شاعر جب شمع کی نسبت بیان کرتا ہے کہ وہ ساری رات روتی ہے تو اسے ہرگز وہم نہیں کہیں گے کیونکہ شاعر یہ یقین نہیں رکھتا کہ شمع واقع میں روتی ہے بلکہ وہ اپنے قلب کے نقشہ کو اس رنگ میں بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ میرا عشق اسقدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر ایک نئے جو گھل رہی ہو مجھے یونی معلوم