انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 383

انوار العلوم جلد ۵ ۳۸۳ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کے ماننے والے میرے آباء واجداد تھے اور جس کی طرف میں خود منسوب ہوں اس لئے میں اس سے بحث کرتا تھا اور ہمیشہ اس کے لئے تیار ہوں ۔ مگر اس وقت پرائیویٹ گفتگو ہے میں تو خدا (تعالی) اور لئے ۔ مگر کو ہرگز نہیں مانتا میرا مذہب صرف قومیت ہے ان مذاہب نے ہماری ترقی کو روک دیا ہے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان صاحبان بھی اسی خیال کے آدمی تھے گو جہاز سے میرے اُترنے سے پہلے مجھے علوم ہوا اسی کے آدمی تھے گو جنازے پلے میں سمجھتا ہوں اور جیسا کہ ان میں سے بعض نے ذکر بھی کیا ان کے خیالات میں ایک حد تک اصلاح ہو چکی تھی ۔ غرض اس قسم کے آدمی ہوتے ہیں اور وہ مذہب کے مقابلہ میں حصہ بھی لے لیتے ہیں لیکن وہ مذہبی نمائندہ ہر گزنہ نہیں کہلا سکتے۔ اور یہ بات عقلاً ناممکن ہے کہ کوئی شخص صدق دل سے ایک مذہب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مانے اور پھر اس کے بعض حصوں کو نا قابل عمل یا ناقص یا باطل سمجھے ۔ صرف کسی کے کہ دینے سےکوئی مسلہ کمزور نہیں ہوسکتا دریای بی ایرانی را رومانی کے بتائے ہوئے معیار کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ مذہب کا نمائندہ بھی ایک ایسا شخص ہو سکتا ہے جو اس کے بعض حصوں کو غلط قرار دے اور عارضی طور پر سلیم کر لیا جائے کہ یہ بات مکن ہے کہ ایک شخص کی تعلیم کو خدا تعالی کی طرف سے بھی مانتا ہو اور پھر اس کے بعض حصوں کو غلط بھی جانتا ہو تو بھی ایسے فرضی آدمی کے بعض مسائل کو رد کر دینے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ مسائل کمزور ہیں اور بودے ہیں۔ کیونکہ دوسرے کا قول اس جگہ کسی امر کو مشتبہ کیا کرتا ہے جہاں وہ چیز نظروں سے پوشیدہ ہو مثلاً کچھ تاجر کسی جگہ سے مویشی لادیں اور یہ ظاہر کریں کہ مثلاً فی مویشی ان کو دو دو سو روپیہ پر پڑا ہے لیکن ان میں سے کوئی شخص یا ان کی دکان کا مینجر خریدار سے کہدے کہ اصل خرید تو سور و پیہ فی مویشی کی ہے تو گو یہ ممکن ہے کہ وہ کسی مخفی سبب سے اپنے ساتھیوں یا اپنے مالکوں کو نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ بول رہا ہو لیکن خریدار کو شک پڑ جاتا ہے کہ شاید یہ بات سچ ہی ہو لیکن وہ حصہ داریا مینجر اگر مثلاً ایک بیل کی نسبت یہ کہدے کہ میاں یہ نبیل نہیں ہے بلکہ سچ پوچھو تو یہ گدھا ہے تو کیا پھر بھی خریدار کو شک پڑ جائے گا اور وہ کہے گا کہ یہ ایک حصہ دار کی رائے ہے یا مینجر کی بتائی ہوئی بات ہے ضرور کوئی بات ہو گی ۔ اس شخص کا ایسی بات کہنا دو حال سے خالی نہ ہوگا یا کہنے والا پاگل ہو گا یا دوسروں کو پاگل سمجھتا ہو گا پس شہادت اس امر کے متعلق ہوا کرتی ہے جو بات نظروں سے او قبل ہو