انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 375

انوار العلوم جلد ۵ ۳۷۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب پروفیسر صاحب یہ فرمانا بھی کسی بات کی تردید کرنا ہی تسلیم کرنا ہیں ہوتا ی این کار را نامی لوگوں نے اُس کی تردید کیوں نہ کی ۔ پس تردید نہ کرنا اور اس شخص کو مرتد نہ قرار دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ اس کو صحیح تسلیم کر لیا گیا درست نہیں ۔ ہر مخالف رائے کار د کر ناضروری نہیں ہوتا نہ ہر بات جس کو رد نہ کیا جائے صحیح تسلیم کی جاسکتی ہے ۔ اگر ہر ایک مخالف رائے کا رد کرنا ضروری ہو تو دنیا میں اندھیر پڑ جائے اور اسقدر فضول تصنیف کرنی پڑے کہ جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ کیا پروفیسر صاحب کہہ سکتے ہیں کہ آریہ سماج میں سکتا۔ کیا۔ ہیں ہر اس بات کا جو ان کا کوئی میر غلطی سے کہہ بیٹھے رد کیا جاتا ہے اور اخبارات کے ایک ایک مضمون اگر ہر و مد نظر رکھا جاتا ہے۔ یہ دعوی دنیا کا کوئی مذہب بھی نہیں کرسکتا کہ اس کے افراد میں سے ہر ایک نے جو خیالات ظاہر کئے ہوں ان کا بالاستیعاب رد کیا جاتا رہا ہے ۔ بیسیوں باتیں کئی وجوہ سے ناقابل التفات خیال کی جاتی ہیں اور بیسیوں تحریریں ان لوگوں کی نظر سے جو جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں پوشیدہ رہتی ہیں میں انکار نہ کرنے کو ان کے مسلم ہونے کی دلیل قرار دیا بالکل غلط بات ہے۔ پروف کے پروفیسر صاحب نے اس دلیل کی تائید میں ایک مثال دی ہے کہ اگر کسی شخص کا وکیل عدالت میں کوئی بات بیان کرنے اور اس کا موکل اس کا انکار نہ کرے تو مدات کے نزدیک وہ بات موکل ہی کی طرف سے سمجھی جائیگی ۔ لیکن یہ مثال غلط ہے کیونکہ وکیل تو اس خاص کام کے لئے مؤکل مقرر کرتا ہے اور خود اسے اپنا کیس سمجھاتا ہے پھر اپنی یا اپنے کسی معتبر کی موجودگی میں اس سے کام لیتا ہے۔ یہاں ان میں سے کونسی بات پائی جاتی ہے ۔ اگر مسلمانان عالم نے سید امیر علی صاحب یا کسی دوسرے مصنف کو اپنی طرف سے باقاعدہ مقرر کیا ہوتا تو تب بیشک بشرط علم ان پر لازم آتا کہ ان کی ہر ایک بات کو جو ان کے منشاء کے خلاف کہیں رد کریں لیکن جب یہ بات ہی نہیں تو پھر اس مثال سے پروفیسر صاحب کیا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ سید امیر علی صاحب کی کتاب کی تردید کیوں نہ ہوئی پروفیسر صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کتاب انگریزی سے میں لکھی گئی ہے اور جس وقت یہ کتاب لکھی گئی ہے اُس زمانہ میں مختلف فرقوں کے وہ لوگ جوند سیب سے واقف واقف تھے اس زبان سے نا واقف تھے اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب اُن تک پہنچی تھی ۔ پس ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کتاب یا اسی قسم کی اور کتب جو انگریزی میں لکھی گئی ہوں کی تردید نہ ہونا یا ان کے لکھنے والوں کے اس سے لکھنے والوں کے اسلام کے نمائندہ ہونے سے انکار نہ کیا جانا اس امر کا ثبوت