انوارالعلوم (جلد 5) — Page 373
انوار العلوم جلد ۳۷۳ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ انھوں نے یہ بات مسیحیوں کے متعلق مذاق کے طور پر کی تھی، مگر سوال یہ ہے کہ اگر میوں سے مذاق کرنا تھا تو وہ اس حصہ لیکچر میں ہونا چاہئے تھا جو مسیحیوں کے متعلق تھا نہ کہ اس حصہ میں جو مسلمانوں کے متعلق تھا اور پھر اگر مذاق ہی کرنا تھا تو انھوں نے کیوں یہ نہ کها که ویدک دھرم سے بھی اس مشکل کا حل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے پیروؤں کا رنگ سفید نہیں۔ ایک تیسری قوم کو کیوں بیچ میں لے آئے ۔ مگر چونکہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ مذاق تھا اس لئے میں بھی اس کو مذاق ہی تسلیم کرتا ہوں ۔ اب رہا دوسرا سوال جو یہ ہے کہ چونکہ اسلام کے بعض پیرو اس کے بعض مسائل کو ضرورت کے مطابق نہیں بتاتے یا غلط قرار دیتے ہیں اس لئے اسلام اس زمانہ کی ضروریات کو پورا نہیں زمانہ کی پورانہ کر سکتا۔ اس کے متعلق اپنے تازہ مضمون میں پروفیسر صاحب نے کچھ تشریحات کی ہیں اور کچھ شرائط لکھی ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ یہ دلیل میری درست تھی۔ پروفیسر صاحب کے تازه بیان کے مطابق اگر کسی مذہب کا مصنف پیرو جو اس مذہب کی حمایت کے لئے کھڑا ہو اور وہ اس مذہب کے بعض مسائل کو نا قابل حمایت ظاہر کرے اور دوسرے لوگ اس کو مرتد قرار نہ دیں تو اس شخص کا یہ اقرار ضرور اس مذہب کے ان مسائل کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور دو صورتوں میں سے سے ایک ضرور اختیار کرنی ہوگی یا اس شخص کو مرتد ثابت کرنا ہوگا یا حوالہ جات جات کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔ تصنیف کسی کو راہنما یا نمائندہ نہیں بنا دیتی میرے نزدیک پروفیسر صاحب نے جو تشریح اپنی دلیل کی اب کی ہے اس سے بھی ان کا مدعا ثابت نہیں ہوتا اور جو حوالے انھوں نے دیئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں ۔ رو کو معلوم ہونا کہ کو رہنما اور سلم بنا پروفیسر صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ تصنیف کسی کو رہنما اور مسلمہ لیڈر نہیں بنا دیتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے رہنما دُنیا میں گذرے ہیں لیکن انھوں نے خود کوئی تصنیف نہیں کی اور بعض ایسے لوگوں نے جو اہل نہ تھے تصانیف کر دی ہیں ۔ تصنیف تو ادبی مذاق یا جوش قلب پر دلالت کرتی ہے یا شهرت و نمود کی خواہش کی علامت ہے ۔ کیپس سید امیر علی صاحب کا یا اور کسی کا کوئی کتاب لکھ دنیا اسبات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ مسلمانوں کے مسلمہ لیڈر ہیں ۔ مسلمہ لیڈر تو وہ تبھی ہو سکتے ہیں جب کوئی جماعت مسلمانوں کی ایسی موجود ہو جو اپنے آپ کو ان کی رائے سے متفق ظاہر کرتی ہو اور انکی اتباع کی مدعی ہو یا کم سے کم ان کو مذہبی طور پر کوئی رتبہ دیتی ہو۔ مثلاً مذہبی مسائل میں ان کی رائے کو وقعت